• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home حماس

اسرائیل اپنے یرغمالی زندہ اور مردہ فوجیوں کی واپسی چاہتا ہے:مشعل

جمعرات 09-07-2015
in حماس
0
plf dead-alive
0
SHARES
3
VIEWS

اسلامی تحریک مزاحمت”حماس” کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے یورپی ثالثوں کے ذریعے رابطہ کیا ہے اور غزہ کی پٹی میں 2014 ء کی جنگ میں مجاھدین کے ہاں جنگی قیدی بنائے گئے دو فوجیوں اور دو کی میتیں واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق حماس رہ نما نے دوحہ میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران بتایا کہ حماس کی جانب سے اسرائیلی مطالبے کا فی الحال کوئی جواب نہیں دیا گیا اور یورپی ثالثوں کو بتای دیا گیاہے کہ فی الحال حماس اپنے ہاں یرغمال بنائے گئے فوجیوں کے بارے میں کسی قسم کے مذاکرات نہیں کرسکتی اور نہ ہی یہ بتا سکتی ہے کہ آیا غزہ میں جنگی قیدی بنائے گئے اسرائیلی فوجی زندہ ہیں یا مرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان معلومات کے حصول سے قبل اسرائیل کو ان اسیران کو رہا کرنا ہوگا جنہیں سنہ 2010 ء میں رہا کرنے کے بعد دوبارہ حراست میں لے لیا گیا تھا۔

صحافیوں کی جانب سے فلسطینی مزاحمت کاروں کے ہاں جنگی قیدی بنائے گئے اسرائیلی فوجیوں کے بارے میں خالد مشعل سے مزید بات کی کوشش کی گئی تاہم انہوں نے اس پر کوئی تفصیلی بات نہیں کی۔

فلسطینیوں کے مابین مصالحت پرزور

خالد مشعل نے ایک سوال کے جواب میں فلسطین کی نمائندہ سیاسی قوتوں کے درمیان قومی مفاہمت کا عمل آگے بڑھانے کی ضرورت پر زوردیا۔انہوں نے کہا کہ حماس اور تحریک فتح نے قاہرہ، دوحہ اور غزہ کی پٹی میں طے پائے معاہدوں میں ایک ساتھ چلنے کا عہد کیا تھا۔ اگر دونوں بڑی جماعتوں کو ایک دوسرے سے گلے شکوے ہیں تو انہیں دور ہونا چاہیے اور تمام فلسطینی قوتوں کے درمیان نئے سرے سے صف بندی کرکے قومی اتحاد کو مزید مضبوط بنانا چاہے۔

خالد مشعل کا کہنا تھا کہ نہ تو تحریک فتح حماس کو ختم کرسکتی، نہ اس کی صلاحیت رکھتی ہے اور نہ ہی اس کا حق رکھتی ہے۔ اسی طرح حماس بھی تحریک فتح کو نہ ختم کرسکتی ہے اور نہ ہی ایسا کرنے کی مجاز ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حماس نے جہاں کہیں غلطی کی اس کا اعتراف اور کیا اور اصلاح احوال کی پوری کوشش کی ہے۔ قومی مفاہمت کویقینی بنانے کے لیے کسی ایک فریق کی طرف سے نہیں بلکہ سب کی جانب سے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے اور احساس ذمہ داری کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حماس کی قیادت شفاف جمہوریت پریقین رکھتی ہے۔ جن نکات پر حماس اور فتح متفق ہیں ان پرعمل درآمد ہونا چاہیے اور مختلف فیہ نکات پراتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے مسلسل رابطوں کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔

مصرسے تعلقات

مصر اور حماس کے درمیان کشیدگی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں خالد مشعل کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت مصرسمیت کسی بھی دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی نہیں کررہی ہے۔ ہم مصر کی بھلائی کے خواہاں ہیں۔ حماس ایسا کوئی قدم نہیں اٹھا سکتی جس سے مصر کی قومی سلامتی کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ ذرائع ابلاغ میں حماس کوجزیرہ نما سینا میں مداخلت کا مرتکب ٹھہرانے کی غیرضروری کوشش کی گئی ہے۔ حماس کا ان واقعات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اب تک سوائے الزام تراشی کے جزیرہ سینا میں مصری فوجیوں پر ہونےوالے حملوں میں حماس کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا جاس سکا ہے۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں خالد مشعل نے کہا کہ غزہ کی پٹی کی تعمیرنو اور محاصرے کا خاتمہ حماس کی اولین ترجیح ہے۔ حماس اسرائیل کے خلاف جنگ بھی نہیں چاہتی تاہم اپنے دفاع سے غافل بھی نہیں ہیں۔ حماس فلسطینی قوم کو ہمہ وقت اپنے دفاع اور مزاحمت کے لیے تیار کرتی رہتی ہے۔

 

بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.