اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” نے مقبوضہ مغربی کنارے میں الخلیل شہر میں مسلمانوں کی تاریخی جامع مسجد الابراہیمی کی اسرائیلی فوج کے ہاتھوں جاری ناکہ بندی اور فلسطینیوں کی مسجد میں عبادت کی غرض سے آمد پرعائد پابندیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے پابندیوں کو سنگین جرم قرار دیا۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی دشمن ایک منظم سازش کے تحت فلسطین کی تاریخی اور مقدس عمارات کو فلسطینیوں کے لیے بند کرکے ان کے تاریخی تشخص کو پامال کرنے کی سازش کررہا ہے لیکن دشمن کی یہ تمام چالیں ناکام ثابت ہوں گی۔
بیان میں حماس نے عالم اسلام اور عرب ممالک سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ فلسطین میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں مقدس مقامات کی بے حرمتی اور فلسطینیوں کی عبادت گاہوں میں داخلے پر عائد پابندیوں کا سخت نوٹس لیں اور فوری مداخلت کرکے مسجد ابراہیمی کو فلسطینی شہریوں کی آمد ورفت کے لیے کھلوانے کی کوشش کریں۔
