اسرائیلی ریڈیو نے اپنی ایک رپورٹ میں ملٹری انٹیلی جنس کے ایک جنرل کا بیان نقل کیا ہے تاہم اس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ جنرل موصوف کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی میں حالیہ جنگ کے دوران حماس کی دفاعی اور عسکری صلاحیت کے بارے میں معلومات کچھ اور تھیں لیکن حماس نے ان معلومات سے کہیں زیادہ طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اسائیلی فوج کا مقابلہ کرنے والے حماس کے جنگجووں کو غزہ کے باہر کسی دوسرے علاقے میں جنگی تربیت دی گئی تھی۔
صہیونی فوجی عہدیدار کا کہنا تھا کہ نو جولائی 2014ء کو حماس کے کمانڈوز نے سمندر کے راستے اسرائیل کے "زکیم” فوجی اڈے پر حملہ کیا۔ اس فوجی اڈے تک فلسطینی کمانڈوز کی رسائی ہمارے وہم وگمان میں بھی نہیں تھی۔
خیال رہے کہ اسرائیلی میڈیا بھی جنوبی عسقلان میں سمندر کے راستے فلسطینی کمانڈوز کے اسرائیل کے ایک فوجی اڈے تک رسائی کو حماس کی بڑی دفاعی کامیابی قرار دیتے رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق فوجی اڈے پر موجود اہلکاروں کو پانی میں نقل وحرکت کا شبہ ہوا جس پر انہوں نے پانی کے اندر تک دکھائی دینے والے آلات کی مدد سے دیکھا تو کمانڈوز کیمپ کے قریب پہنچ چکے تھے۔
