رپورٹ کے مطابق اسرائیلی پولیس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بیت المقدس سے تعلق رکھنے والے فلسطینیوں 61 سالہ نجیب القواسمی، 60 سالہ خلیل العباسی اور 33 سالہ محمد جبارین کے خلاف فرد جرم پیش کی گئی ہے۔
تینوں فلسطینیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک ممنوعہ تنظیم میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد اسرائیل کے خلاف ’دہشت گردانہ‘ کارروائیاں شروع کی تھیں۔ نیز وہ مسجد اقصیٰ میں آنے والے مرابطین کے لیے فنڈز جمع کرتے رہے ہیں۔۔
اسرائیلی خفیہ ادارے’’شاباک‘‘ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حراست میں لیے گئے فلسطینی یہودی آباد کاروں کے قبلہ اوّل میں داخلے کی روک تھام کے لیے فنڈز جمع کرنے کے ساتھ ساتھ اسرائیل مخالف سرگرمیوں میں ملوث تھے۔
یاد رہے کہ رواں ماہ میں بیت المقدس میں اسرائیلی فوج کے کریک ڈاؤن کے نتیجے میں سیکڑوں فلسطینیوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔ ان میں سے بعض فلسطینیوں کو پندرہ روز سے چھ ماہ تک کے لیے قید کی سزاؤں کے ساتھ ساتھ بعض کی گھروں پر نظربندی کی سزا دی گئی تھی۔
