مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق قاہرہ سے واپسی کے بعد غزہ کی پٹی میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حماس رہ نما نے کہا کہ مصر کی نگرانی میں طے پائی جنگ بندی میں تمام امور طے نہیں پا سکے ہیں۔ اس دوران ہم صہیونی مذاکرات کاروں کی ٹال مٹول کو اچھی طرح دیکھتے رہے جو معاملات کو حل کرنے کے بجائے وقت گذاری میں مصروف تھے۔
جنگ بندی کے نتائج کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر ابو مرزوق نے کہا کہ جنگ بندی کے بعد اب اس کے اثرات زمین پر نظر آنا چاہئیں۔ اگلے چند دنوں میں قوم اس کے اثرات دیکھے گی۔ اس وقت ہم غزہ کی پٹی کی تعمیر کی طرف توجہ دیں گے اور میرا خیال ہے کہ بربادی اتنی زیادہ ہوچکی ہے کہ اس کی تعمیر نو میں کئی سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔
انہوں نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی میں ہم جو چاہتے تھے وہی ہوا۔ ہمارے مطالبات میں نہ صرف غزہ کی پٹی میں ایک بندرگاہ اور ایک ہوائی اڈے کا قیام شامل تھا بلکہ 12 جون کے بعد مغربی کنارے میں ہونے والے ظالمانہ کریک ڈائون کے دوران بے گناہ شہریوں کی رہائی بھی ہمارا اہم ترین مطالبہ رہی ہے۔
ایک دوسرے سوال کے جواب میں حماس کے لیڈر کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے مذاکرات میں صہیونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو اپنی ایک شرط بھی نہیں منوا سکے ہیں۔ ہم مسلح جدو جہد کے موقف پر قائم ہیں۔ اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں اسلحہ کی آمد کو محدود کرنے کا مطالبہ کیا ہم نے مسترد کردیا۔ نیز ہم اسلحہ مقامی سطح پر بھی بناتے رہیں گے۔ سرنگیں مسمار نہیں کریں گے اور نہ ہی صہیونی ریاست کی طاقت کے سامنے گھٹنے ٹیکیں گے۔
ابو مرزوق نے کہا کہ جس طرح ہم نے غزہ محاذ جنگ پر کامیابی حاصل کی اسی طرح ہم نے مذاکرات کی میز پر بھی دشمن کو چاروں شانے چت کردیا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ جنگ ایک فیصلہ کن لڑائی تھی۔ کیونکہ اس جنگ نے دشمن اور فلسطینی قوم کو ایک دوسرے سے کافی دور کردیا ہے۔ نیتن یاھو کا خیال ہے کہ یہ جنگ بندی محدود مدت کے لیے ہے اور کوئی مستقل جنگ بندی نہیں ہے۔ اگر اسرائیل دوبارہ جارحیت پر اتر آتا ہے تو صہیونی ریاست کو پہلے سے زیادہ غزہ میں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہم مذاکرات کے اگلے ادوار میں بھی اپنے مطالبات پر قائم رہیں گے۔ اسرائیل کے ظالمانہ مطالبات تسلیم کرنا ممکن ہی نہیں۔
ڈاکٹر موسیٰ ابو مرزوق نے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں شہداء بالخصوص القسام کمانڈر رائد العطار، محمد ابو شمالہ اور محمد برھوم کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ان لوگوں کی قربانیوں اور معصؤم بچوں، خواتین اور خواتین کی قربانیوں کے نتیجے میں آج فلسطینیوں کی تحریک مزاحمت کا سر فخر سے بلند ہے۔
