مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی وزیرخارجہ کا یہ اشتعال انگیز بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مصر میں فلسطینی مزاحمتی گروپوں اور صہیونی حکام کے درمیان بالواسطہ طور پر جنگ بندی کے لیے بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔ اپنے ایک بیان میں لائبرمین نے کہا کہ جنگ بندی کے لیے صرف اسرائیل کی شرائط سنی اور مانی جائیں۔ اگر فلسطینی مزاحمت کاروں اور حماس کی شرائط بھی سنی گئیں تو یہ حماس کی فتح تصور ہوگی اور اسرائیل کو اس کا خمیازہ بھگتنا ہوگا۔
اسرائیلی اخبار "یدیعوت احرونوت” کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صہیونی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ فلسطینی مزاحمت کاروں کے خلاف اسرائیل کی جنگ کو عدم جواز کا شکار نہیں ہونا چاہیے ورنہ وسط جون میں مغربی کنارے میں تین یہودی آباد کاروں کے قتل کے بعد اسرائیل کی غزہ کی پٹی پر مسلط جنگ میں حماس کامیاب تصور کی جائے گی اور فلسطینی مزاحمت کاروں کے اسرائیل کے خلاف راکٹ حملوں اور دہشت گردی کو جواز مل جائے گا۔
لائبرمین نے اعتراف کیا کہ اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے میں حماس کے نیٹ ورک کو کمزور کرنے کے لیے تنظیم کے خلاف فوجی کریک ڈاؤن جاری رکھا ہوا ہے لیکن ساتھ ہی انہوں نے اس کی ذمہ داری حماس ہی پر عائد کی۔
انہوں نے کہا کہ غزہ پر حملے کا اسرائیل کا کوئی ارادہ نہیں تھا لیکن حماس نے غزہ سے مغربی کنارے میں تین یہودی آباد کاروں کے اغواء کے بعد قتل کے احکامات جاری کیے اور ساتھ ہی اسرائیلی کالونیون پر راکٹ حملے بھی شروع کردیے جس کے بعد اسرائیل کو مجبوراً غزہ میں فوج داخل کرنا پڑی۔
ایک دوسرے سوال کے جواب میں گذشتہ دنوں مصر کی نگرانی میں تین دن کی جنگ بندی توڑنے کا الزام بھی حماس کے سر تھوپ دیا۔ آوی گیڈور کا کہنا تھا کہ حماس نے جنگ بندی کے باوجود ہمارے دو فوجیوں کو ہلاک اور ایک کی میت قبضے میں لے کر جنگ بندی توڑ ڈالی تھی۔
