مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق غزہ وزارت داخلہ کے ترجمان ایاد البزم نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ غزہ کی پٹی میں امن وامان کو تباہ کرنے کے لیے بعض سیاسی اور سیکیورٹی شخصیات کے ملوث ہونے کا پتا چلا ہے۔ سیکیورٹی حکام نے تفتیش کے دوران پتا چلایا ہے کہ غزہ کی پٹی میں بد امنی پھیلانے میں فلسطینی اتھارٹی سے وابستہ بعض شخصیات ملوث ہیں۔ جو اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے غزہ کے امن وامان کوتباہ کررہی ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ سازشی عناصرکی جانب سے بعض علاقائی اور غیرملکی تخریب کار گروپوں کے ساتھ مل کر غزہ کی پٹی میں بد امنی اور دہشت گردی کی اسکیمیں تیار کی گئی ہیں۔ ان سازشوں میں غزہ کی پٹی میں فلسطین میں قومی مفاہمت کے لیے ہموار ہونے والی فضاء کو تباہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ مئی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے الشجاعیہ چوک میں ایک مشتبہ کار قبضے میں لی جس میں دھماکہ خیز مواد بھرا گیا تھا اور اسے عین اس وقت دھماکے سے اڑانا تھا جب وہاں سے "وی آئی پی” نقل وحرکت ہونا تھی لیکن سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرکےتخریب کاری کی اس بڑی سازش کو ناکام بنا دیا۔
ترجمان نے کہا کہ اس سازش میں ملوث ایک 55 سالہ نعیم دیب ابو فول نامی تخریب کار کو حراست میں لیا گیا ہے جس نے بتایا کہ اسے فلسطینی اتھارٹی کے انٹیلی جنس ادارے کے ایڈوائرز جنرل سامی نسمان کی ہدایت پر غزہ کی پٹی میں بدمنی کے لیے بھیجا گیا تھا۔
اس کے علاوہ کچھ اور لوگوں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے جنہوں نے غزہ کی پٹی میں تخریب کاری اور بدامنی پھیلانے کا اعتراف کرتےہوئے کہا ہے کہ انہیں ایسا کرنے کی ہدایت فلسطینی اتھارٹی کےوزیر مذہبی امور محمود الھباش بے دی تھی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
