مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق وزارت داخلہ کی جانب سے سامنے آنے والی اہم دستاویزات اور سازش کے طشت ازبام ہونے پراسلامی تحریک مزاحمت’’حماس‘‘ نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سازش کو نہایت خوفناک قرار دیا ہے۔
غزہ وزارت داخلہ کے حکام کی جانب سے منکشف کی گئی اس سازش میں بتایا گیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس اور اسرائیل نے مل کر غزہ کی پٹی میں فلسطینی تحریک مزاحمت کو کچلنے کی سازش تیار کی تھی۔
اس سازش کے سامنے آنے کے بعد حماس کی جانب سے سخت رد عمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ حماس کے ترجمان ڈاکٹر سامی ابو زھری نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس غزہ کی پٹی میں بد امنی پھیلانے کی سازش سے فلسطینی اتھارٹی اوراسرائیل کےدرمیان گہرے سیکیورٹی تعاون کا صاف اظہار ہو رہا ہے۔
حماس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی میں بدامنی پھیلانے کی سازش کے سامنے آنے پر تحریک فتح کا رد عمل جذباتی نوعیت کا ہے۔ فتح کی اس جذباتیت کی حقائق اور براہین کے سامنے کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ہم حقائق کے ساتھ یہ ثابت کررہے ہیں کہ فلسطینی اتھارٹی نے غزہ کی پٹی کے خلاف ایک گہری اور نہایت خطرناک سازش تیار کی تھی۔
غزہ وزارت داخلہ نے کچھ تخریب کار عناصر کو بھی حراست میں لیا ہے جنہوں نے اقبال جرم کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے غزہ کی پٹی میں بد امنی پھیلانے پرمامور کیا گیا تھا۔ ملزمان کا کہنا ہے کہ انہیں غزہ کی پٹی میں فلسطینی مزاحمتی قیادت کو نشانہ بنانے کا ہدف دیا گیا تھا اور اس ہدف کے لیے وہ غزہ کی پٹی میں بم دھماکوں کی تیاری کررہے تھے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
