مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق رام اللہ اتھارٹی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی کال سول سوسائٹی کی تنظیموں کی جانب سے دی گئی تھی۔ اس سلسلے میں نماز جمعہ کے اجتماعی کے بعد ایک بڑی ریلی شمالی غزہ کی پٹی میں جبالیا کیمپ کی جامع مسجد خلفاء الراشدین سے نکلی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس اور مخلوط قومی حکومت کے وزیراعظم رامی الحمد اللہ کے خلاف شدید نعرے درج تھے۔ریلی کے شرکاء نے فلسطینی اتھارٹی کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی اور صدر اور وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ کی پٹی میں تعمیر نوکا عمل آگے بڑھانے کے موثراقدامات کریں اور فلسطینی سیاسی جماعتوں کے ساتھ طے پائے مفاہمتی معاہدے کو عملی شکل دیں۔
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے حماس رہ نما محمد ابو عکر کا کہنا تھا کہ قومی حکومت کا پہلا کام یہ ہے کہ وہ قوم کے ساتھ امتیازی سلوک ختم کرے اور قومی مفاہمتی معاہدے کی شرائط کے مطابق غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے کے عوام کو ایک نظر سے دیکھے۔
انہوں نے کہا کہ قومی حکومت تشکیل پائے ایک سال کا عرصہ ہوچکا ہے مگراس کے باوجود نہ تو غزہ کی پٹی میں تعمیر نو کا عمل شروع ہوسکا اور نہ ہی غزہ کی پٹی کا محاصرہ ختم کیا جاسکا۔ قومی حکومت کےقیام کے باوجود فلسطینی عوام کے مسائل پہلے سے مزید کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
