فلسطینی شہرغزہ کی پٹی کے مقامی لوگوں کی زیادہ ترمعیشت کا انحصار زراعت، کھیتی باڑی، ماہی گیری اور بیرونی امداد پرہوتا ہے۔ اسرائیلی حکومت کی جانب سے ناروا پابندیوں کے نتیجے میں اہل غزہ پچھلے آٹھ برسوں سے نہایت کمسپرسی کی زندگی گذار رہے ہیں۔
رہی سہی کسر ماہی گیروں پرحملوں کے ذریعے نکال دی جاتی ہے۔ جہاں تک زراعت اور کھیتی باڑی کا تعلق ہے تو اس پیشے کی اپنی ایک داستان الم ہے۔ شہر کی سرحدوں پر اسرائیلی فوج کی چھاؤنیاں مقامی زراعت کے لیے تباہی کا سب سے بڑا سبب بن رہی ہیں۔
غزہ کی پٹی میں بیشتر زرعی رقبے شہر کے جنوبی حصے خان یونس کی جانب واقع ہیں۔ جبکہ خود خود یونس کے شمال مشرق میں واقع "کیسوفیم” یہودی فوجی چھاؤنی نے مقامی زراعت کا "بیڑہ غرق” کررکھا ہے۔
فوجی چھاؤنی کی آڑ میں اسرائیلی فوجیوں نے آس پاس کے سیکڑوں مربع زرعی علاقے "نو گو ایریاز” میں تبدیل کررکھے ہیں۔ ان کھیتوں میں فلسطینی جاسکتے ہیں اور نہ ہی وہاں پر کسی قسم کی کھیتی باڑی کرسکتے ہیں کیونکہ وہاں پر کام کاج موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ ان کھیتوں کے قریب پھٹکنےوالے فلسطینیوں کو بھی صہیونی فوج گولیوں سے بھون دیتی ہے جس کے نتیجے میں شہری خوف کا شکار ہیں۔
صہیونی فوجی چھاؤنی سے متاثرین کی تعداد سیکڑوں خاندانوں پر مشتمل ہے۔ مرکزاطلاعات فلسطین نے متاثرین کے تاثرات اور دشمن فوجیوں کی موجودگی کے باعث زراعت پر پڑنے والے اثرات پر بات کی تو ان میں سے اکثر پھوٹ پھوٹ کر رو دیے۔ 35 سالہ عزام ابو ظاھر نے کہا کہ کیسوفیم چھاؤنی کے قریب اس کی سیکڑوں ایکڑ زرعی اراضی ہے لیکن اس پر اسرائیلی فوج کا کنٹرول ہے۔ وہ اپنی اس قیمتی زمین کو بجز حسرت بھری نگاہوں کے دیکھنے اور کچھ نہیں کرسکتا ہے۔
ابو ظاھرنے کہا کہ پہلے اس کی اراضی میں وہاں پر مکانات ہوا کرتے۔ مویشیوں کو ٹھہرانے اور چرانے کے لیے چراگاہیں تھیں لیکن اب نہ اراضی، نہ مکان اور نہ ہی چراگاہیں ہیں۔ ہم وہاں جانے کا سوچ بھی نہیں سکتے ہیں کیونکہ زمین کے قریب جاتے ہیں تو صہیونی فوجیوں کی گولیاں ہمارا استقبال کریں گی۔
ایک دوسرے سوال کے جواب میں ابو ظاھر نے بتایا کہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فوجی چھاؤنی کا دائرہ پھیل رہا ہے اور وہ شہریوں کی زرعی اراضی میں دست درازی کے ذریعے مزید آگے بڑھ رہے ہیں۔ سنہ 2009ء تک انہیں وہاں پر کھیتی باڑی کی اجازت تھی مگراب نہیں۔ وہاں پرموجود ہمارے تمام مکانات دھماکوں سے تباہ کردیے گئے ہیں۔ اس لیے اب غزہ کی پٹی ایک بڑے زرعی ذخیرے سے محروم کردی گئی ہے۔
پوری کالونی تباہ
ایک دوسرے مقامی فلسطینی نسیم ابو ظاھر نے "مرکزاطلاعات فلسطین ” کے نامہ نگار کو بتایا کہ سنہ 2009ء میں صہیونی فوج نے وادی غزہ کے مشرق میں "الظاھر” کالونی کے تمام کے تمام 30 مکانات مسمار کرڈالے۔ وہاں سے فلسطینی کسانوں کی مشکلات کا آغاز ہوا۔ اب یہ سیکڑوں ایکڑ اراضی فلسطینیوں کے نہیں بلکہ صہیونی فوج کے تسلط میں ہے۔
ایک سوال کے جواب میں نسیم ابو ظاھر نے کہا کہ ہمیں اسرائیلی فوج کی جانب سے خطرہ پہلے بھی تھا لیکن ہم چوری چھپے جاتے اور خطرے کی صورت میں بھاگ کروہاں پر بنے اپنے مکانوں میں گھس جاتے تھے اب مکان تو ملبے جا ڈھیر بنا دیے گئے ہیں۔ اب جو بھی اس زرخیز وادی میں داخل ہوتا ہے گولیوں سے بھون دیا جاتا ہے۔
نسیم ابو ظاھر نے کہا کہ ہمارے کھیت اور زرعی اراضی 300 سے 700 میٹر اسرائیل کی لگائی گئی حفاظتی باڑ سے دور ہے لیکن اس کے باوجود ہم لوگ وہاں نہیں جاسکتے ہیں۔ خود اسرائیلی فوج نے باڑسے باہر فلسطینیوں کو کھیتی باڑی کی اجازت دے رکھی تھی لیکن تین سو سے سات سو میٹر کے فاصلے تک ہم نہیں جاسکتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں زراعت کو بے پناہ نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
مقامی فلسطینی کسان سلیمان السمیری نے نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "کیسوفیم” محض ایک فوجی چھاؤنی نہیں بلکہ اسرائیلی فوج کا اس علاقے میں سب سے بڑا قلعہ ہے۔ پچھلے کئی سال سے یہ قلعہ ہماری جان ومال اور زراعت کےلیے پیغام موت بنا ہوا ہے۔ یہیں سے اسرائیلی فوجی نکل کرغزہ کے اندر دراندازی کرتے ہیں اور ہمارے شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
خون آشام چھاؤنی
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق”کیسوفیم” فوجی چھاؤنی صرف غزہ کی مقامی آبادی کی زراعت کی تباہی کا موجب نہیں بلکہ دسیوں فلسطینی اس چھاؤنی سے فائرنگ میں شہید ہوچکےاور بے شمار زخمی ہوئے ہیں۔
اس چھاؤنی کی وجہ سے فلسطینی مزاحمت کار صہیونی فوج سے نبردآزما بھی رہے ہیں۔ نو جون 2007ء کومقامی مزاحمت کاروں اور اس چھاؤنی کے فوجیوں کے درمیان جھڑپ میں چار مجاھد شہید ہوگئے تھے۔ اسرائیلی فوج کا یہ کیمپ دراصل غزہ کی پٹی کو کنٹرول کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ روز مرہ کی بنیاد پر اسرائیلی فوجی سرحد پر سرنگوں کی تلاش کی آڑ میں بلڈوزروں کی مدد سے کھدائیاں کرتے اور فلسطینیوں کی زرعی اراضی کو ویران کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ بسا اوقات اسرائیلی فوج کی کھدائیاں فلسطینیوں کی کھڑی فصلوں میں کھیتوں میں بھی کی جاتی ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
