اسرائیلی پارلیمنٹ میں شامل بائیں بازو کی سیاسی جماعت "میرٹز” کی خاتون چیئر پرسن زھاوا جلئون نے اپنی فوج اور حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ "حفاظتی کنارا” کے نام سے غزہ کی پٹی پر مسلط جنگ کے نتیجے میں اسرائیلی فوج طاقت کا توازن کھو بیٹھی ہے۔ اسرائیلی فوج کا طاقت کا توازن پہلے ہی بری طرح متاثر تھا اور اس جنگ میں مزید تباہی سے دوچار ہوا ہے۔
عبرانی اخبار معاریف کی رپورٹ کے مطابق ایک بیان میں مسز جلئون کا کہنا تھا کہ اگر اسرائیلی حکومت نے فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کے بجائے صرف حماس سے کوئی جنگ بندی معاہدہ کیا ہے تو مجھے دکھائی دے رہا ہے کہ سال دو سال میں ہم ایک نئی جنگ لڑ رہے ہوں گے۔
