مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق بین الاقوامی فوج داری عدالت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے دی گئی درخواستوں پر "فریڈم فلوٹیلا” میں شامل ترک بحری جہاز”مرمرہ ” پراسرائیلی فوج کے حملے اور 10 کارکنوں کی شہادت کی دوبارہ تحقیقات کررہی ہے۔
خیال رہے کہ مئی 2010 ء کو غزہ کی پٹی کے محصورین کی مدد کے لیے آنے والے غیرملکی قافلے”فریڈم فلوٹیلا” میں شامل ترک بحری جہاز پراسرائیلی بحریہ نے کھلے سمندر میں حملہ کرکے کم سے کم 10 ترک رضاکاروں کو شہید اور 50 سے زائد کو زخمی کردیا تھا۔ قابض فوج نے تمام امدادی جہازوں کا سامان لوٹ لیا تھا اور ان میں سوار 650 عالمی شخصیات کو کئی دن تک یرغمال بنائے رکھا تھا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے بین الاقوامی فوج داری عدالت کو درخواستیں دی تھیں جن میں صہیونی فوج کی ننگی جارحیت کی شفاف تحقیقات اور مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
ہیگ میں قائم عدالت کے فیصلے پر اسرائیل نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ پانچ سال قبل پیش آئے واقعے کی دوبارہ تحقیقات اشتعال انگیزی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے دفترسے جاری شدہ بیان میں کہا گیا ہے کہ کھلے سمندر میں اسرائیلی فوج نے غزہ کا محاصرہ توڑںے کے لیے آنے والے جہازوں پرحملہ کرکے اپنا فرض نبھایا تھا کیونکہ یہ جہاز ہماری سلامتی کو چلینج کررہے تھے۔ انہیں روکنا اسرائیل کےدفاع کا تقاضا تھا۔ اس لیے اسرائیلی فوجیوں نے جو کچھ کیا وہ صحیح کیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
