مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق غزہ جنگ جسے فلسطینی مزاحمت کاروں کی جانب سے ’’معرکہ کھایا ہوا بھوسہ‘‘ کا نام دیا ہے میں مجاھدین کے ہاتھوں سخت جانی نقصان اٹھانے والے فوجیوں نے اپنے تاثرات بیان کیے ہیں۔ یہودی فوجی جنگ کے ہولناک مناظر کو یاد کرکے آج بھی پریشان ہوجاتے ہیں۔
اپنی ہی چھیڑی گئی جنگ سے متاثرہ صہیونی فوجیوں کا کہنا ہے کہ مشرقی غزہ میں الشجاعیہ کے مقام پر جب فلسطینی مزاحمت کاروں نے ان کے کئی ساتھیوں کو گولیوں سے بھون ڈالا تو وہ دور سے ان کی لاشتوں سے اٹھتے تعفن کو محسوس کرسکتے تھے۔
’’اگور‘‘ یونٹ سے وابستہ ایک یہودی فوجی نے بتایا کہ الشجاعیہ میں فلسطینی مجاھدین کے حملے میں اس کے دو ساتھی ہلاک اور یونٹ کمانڈر سمیت دسیوں زخمی ہوگئے تھے۔ مارے جانے والے فوجیوں کی لاشیں ناقابل شناخت ہی نہیں بلکہ ناقابل دید تھیں۔ گولیاں لگنے سے ان کی شکلیں تک مسخ ہوچکی تھیں اور کی میتوں سے تعفن اور بدبو کے ہول اٹھ رہے تھے جس سے ان کے دماغ چکرا گئے تھے۔
عبرانی زبان میں نشریات پیش کرنے والے ٹی وی 10 سے بات کرتے ہوئے ایک فوجی نے بتایا کہ اکیس جولائی کو مقامی وقت کے مطابق صبح چار بجے فوج کی ایک پارٹی الشجاعیہ کے مقام پر ایک تین منزلہ عمارت میں داخل ہوئی۔ یہ ایک حویلی نما مکان تھا۔ ہمیں امید تھی کہ اس جگہ سے ہمیں غزہ کی پٹی میں سرنگوں اور دیگرحساس مقامات کے نقشے ملیں گے۔ اسی اثناء میں عمارت کی عقبی سمیت میں ایک زور دار دھماکہ ہوا۔ مکان کے کچھ حصے گرنے لگے۔ اس وقت ہمارے فوجیوں کے خوف کا عالم دیدنی تھا۔ اس کے ساتھ ہی ایک دوسرا دھماکہ ہوا۔ یہ غالبا ھاون راکٹ کا دھاکہ تھا۔ اس دھماکے میں ہمارے متعدد ساتھی ہلاک اور زخمی ہوگئے۔ ایک دوسرے فوجی نے بھی جو اس موقع پر موجود تھا قریبا وہی تاثرات بیان کئے جو اس کے دوسرے ساتھی نے کئے۔ دونوں کی گفتگو سے خوف اور بزدلی نمایاں دکھائی دے رہی تھی۔
صہیونی فوجیوں نے جنگ کے بارے میں اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے فلسطینی مزاحمت کاروں کی عسکریت مہارت کو تسلیم کیا اور کہا کہ اسلحہ اور مادی اعتبار سے کم تر ہونے کے باوجود مزاحمت کار نہایت پامردی سے لڑ رہے تھے۔
اسرائیلی ٹی وی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غزہ جنگ میں ہولناک مناظر دیکھ کر ذہنی اور نفسیاتی طور پر متاثر ہونے والے سیکڑوں فوجیوں کا دوبارہ نفسیاتی معائنہ کیا گیا۔ معائنے سے گذرنے والے ہر سپاہی کے پر جنگ کے نہایت خوفناک اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ یہودی فوجی اپنے سامنے اپنے ساتھیوں کے گلے سڑے مردہ جسموں کو یاد کرکے آج بھی خوف کی کیفیت میں چلے جاتے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
