فلسطینی محصور شہر غزہ کی پٹی اور مقبوضہ مغربی کنارے کے درمیان زمینی رابطے کی سب سے بڑی گذگاہ "کرم ابو سالم” کو بند کرکے فلسطینیوں کو بلیک میل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق صہیونی فوجیوں نے نام نہاد سیکیورٹی وجوہات کی آڑ میں رواں سال کے پہلے
چار ماہ میں کرم ابو سالم کو ڈیڑھ ماہ تک دو طرفہ ٹریفک کے لیے بند کیے رکھا۔ جس کے نتیجے میں غزہ کی پٹی میں شہریوں کو لاکھوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
فلسطین میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم ادارے کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران کرم ابو سالم گذرگاہ کو 75 دن کھلا رکھا گیا جبکہ نام نہاد وجوہات کی آڑ میں 45 دن تک گذرگاہ کو بند رکھا گیا ہے۔ بندش کے ایام میں 37 فی صد اوقات یہودیوں کے مذہبی تہواروں کی نذر ہوئے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج اور سیکیورٹی فورسز کے پاس غزہ اور مغربی کنارے کے درمیان گذرگاہ کو ایک منٹ کے لیے بند کرنے کا بھی کوئی جواز نہیں ہے۔ اسرائیلی حکومت عالمی اصولوں اور بین الاقوامی معاہدوں کی رو سے غزہ کی پٹی کی تمام گذرگاہیں کھلی رکھنے کی پابند ہے اور اگر وہ کسی گذرگاہ کو بند کرتی ہے تو یہ عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیکیورٹی خطرات محض بہانہ ہے۔ دراصل اسرائیلی فوج اور حکومت ایک منظم سازش کے تحت غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے کے درمیان تجارتی راہ داری کو بند رکھ کے فلسطینیوں کو اپنے دباؤ میں رکھنا چاہتی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غزہ کی گذرگاہوں کو بند رکھنا صہیونی فوج اور اسرائیلی ریاست کے مفاد میں ہے اور اس کا فلسطینی شہریوں کو غیرمعمولی تجارتی اور اقتصادی نقصان ہو رہا ہے۔
اقتصادی ماہرین کے اندازوں کے مطابق کرم ابو سالم کی بندش سے غزہ کی پٹی کو یومیہ 200 ملین ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ اسرائیل چاہتا ہی یہی ہے کہ وہ گذرگاہ کو زیادہ سے زیادہ بند رکھ کرکے فلسطینیوں کا دیوالیہ نکال دے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
