مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق نیتن یاھو نے ان خیالات کا اظہار سوموار کو "جیوش ایجنسی” کے زیراہتمام ایک سیمینار سے خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ "انصاف کا قتل اور حق وسچ کی عصمت ریزی کی جا رہی ہے”۔ حق یہ ہے کہ اسرائیل نے غزہ کی پٹی کی تعمیرنو کے لیے تعمیراتی سامان لے جانے کی کھلی اجازت دے رکھی ہے۔ اس کے باوجود یہ امدادی قافلے کس لیے روانہ کیے جاتے ہیں۔
خیال رہے کہ غزہ کی پٹی کا محاصرہ توڑںے کے لیے امدادی کاروان”فریڈم فیلوٹیلا 3 ” گذشتہ روز یونان کے ساحلی شہر ایتھن سے غزہ کی جانب عازم سفرہوچکا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی حکومت نے بحریہ کو امدادی قافلوں کو روکنے کا حکم دیا ہے۔ تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں اور امدادی اداروں نے عالمی برادری سے امدادی جہازوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
امدادی قافلے میں تیونس کے سابق صدر منصف المرزوقی سمیت یورپ اور عرب ممالک کی کئی سرکردہ شخصیات بھی شامل ہیں۔ اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے سیاسی شعبے کے رکن عزت الرشق نے بھی خبردار کیا ہے کہ غزہ کی پٹی آنے والے امدادی جہازوں کو چھیڑنے کی کوشش کی گئی تو اسرائیل کو اس کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
