رپورٹ کے مطابق اسرائیلی ٹی وی چینلوں پر سات شہداء کی آٹھ قبروں کو کئی کئی زاویوں سے زیربحث لایا گیا اور یہ کہا گیا کہ سرنگ کے حادثے میں مارے جانے والوں کی تعداد سات نہیں بلکہ آٹھ تھی اور حماس نے اپنے ایک مجاھد کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے۔
اس نوعیت کی افواہوں کے جلو میں نامہ نگار نے بھی آٹھویں قبر کا راز معلوم کرنے کی کوشش کی تو وہ راز بھی سامنے آگیا۔
صہیونی میڈیا کے اس طوفان کے بعد ایک مقمی شہری الشیخ معتصم دلول سامنے آئے اور انہوں نے بتایا جس علاقے میں سرنگ کا حادثہ پیش آیا اسی کے قریب اس کی ایک معمر عزیزہ جس کی عمر 70 برس تھی طبی موت انتقال کرگئی تھی۔ اس لیے اس کی قبربھی ان شہداء کی قبور کے ساتھ ہی تیار کردی گئی تھی۔ یہ آٹھویں قبر اسی خاتون کی تھی جسے صہیونی میڈیا نے بڑھا چڑھا کر فلسطینی تحریک انتفاضہ کو بدنام کرنے کی مذموم کوشش کی ہے۔
نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سات شہداء کا اضافی ثبوت یہ بھی ہے کہ شہداء کے جسد خاکی تابوتوں میں رکھے گئے تھے، جبکہ فوت ہونے والی خاتون کا کوئی تابوت نہیں بلکہ اسے تابوت کے بغیر ہی دفن کیاگیا۔
