اسرائیلی حکام کی جانب سے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے راستے سات سال بعد پہلی مرتبہ 450 بھاری مشینیں اور مال بردار ٹرک غزہ لے جانے کی اجازت دی ہے۔
اسرائیلی حکومت کی اجازت کے بعد 450 بھاری میشنیں غزہ منتقل کر دی گئی ہیں۔ سنہ 2007ء کے بعد اس نوعیت کا پہلا سامان ہے۔
غزہ میں بھاری گذرگاہ اور سرحدی امور کے ڈائریکٹر جنرل نظمی مہنا نے خبر رساں ایجنسی "اناطولیہ” سے بات کرتے ہوئے بایا کہ اسرائیلی حکام کی اجازت کے بعد رام اللہ سے کرم ابو سالم کے راستے 450 بھاری مشینیں اور ٹرک غزہ داخل کیے گئے ہیں۔ ان میں ٹرالر، ٹرک، زرعی مقاصد کے لیے استعمال کی جانے والی مشینیں، بسیں، بلڈوزر اور کنکریٹ پمپ شام ہیں۔
سنہ 2007ء کے بعد اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کی عاید کردہ پابندیوں کے بعد اس نوعیت کے سامان کی غزہ کو فراہم بند کر دی گئی تھی۔
خیال رہے کہ سنہ 2007ء میں غزہ کی پٹی میں اسرائیل مخالف تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کی حکومت قائم ہوئی تھی جس کے انتقام نے صہیونی ریاست نے 19 لاکھ کی آبادی کے اس شہر کا معاشی محاصرہ کر لیا تھا۔ حال ہی میں فلسطین میں قومی حکومت کی تشکیل کے بعد اسرائیل پر عالمی برادری کی جانب سے بھی غزہ کی ناکہ بندی کے خاتمے کا مطالبہ زور پکڑ گیا تھا۔ جولائی اور اگست کے مہینوں میں اسرائیلی فوج کی غزہ پر بمباری کے بعد عالمی مطالبات میں مزید شدت آ گئی تھی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
