مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اقوام متحدہ کے ترقیاتی ادارے UNDP کے غزہ کی پٹی کے تعمیراتی پروگرام کے ڈائریکٹر باسل ناصر نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کی جانب سے وعدوں کے مطابق غزہ کی تعمیرنو کے لیے 200 ملین ڈالر کی رقم فراہم کرنے کے وعدے کیے گئے تھے لیکن اس رقم میں سے صرف 10 ملین ڈالر کی رقم حاصل ہوسکی ہے۔ جو کل رقم کا صرف پانچ فی صد ہے۔
انہوں نے کہا کہ گذشتہ برس غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کے نتیجے میں ہزاروں کی تعداد میں عام شہریوں کے مکانات مسمار کردیے گئے تھے۔ عالمی اداروں کی جانب سے غزہ کی پٹی میں 30 ہزار مکانات کی فوری تعمیر کا اعلان کیا گیا تھا لیکن ان مکانوں کی تعمیر کے لیے درکار رقم اور دیگر سامان مہیا نہیں کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں 3300 مکانات مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بن گئے تھے جبکہ 1550 مکانات بھی ناقابل رہائش ہیں۔ ان کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں مکانات متاثر ہوئے ہیں۔
باسل ناصر کا کہنا تھا کہ یو این ڈی پی نے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں صنعت اور زراعت کے شعبوں میں ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے ایوان صنعت وتجارت سے مل کر ایک تخمینہ لگایا تھا۔ تخمینے کے مطابق جنگ کے نتیجے میں پانچ ہزار صنعتی اور زرعی عمارات تباہ ہوئیں جنہیں دوبارہ تعمیر کیا جانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پرغزہ کی پٹی میں تعمیر نو کے لیے دو سو ملین ڈالر کی رقم درکار ہے۔ اس سلسلے میں عالمی برادری کی جانب سے امداد فراہم کرنے کے وعدے بھی کیے گئے ہیں مگر انہیں ایفا نہیں کیا گیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
