فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی پر وسط جولائی سے اگست کے پہلے ہفتے تک جاری رہنے والی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں ہر شعبہ ہائے زندگی بری طرح متاثر ہوا ہے۔
دیگر شعبوں کی طرح غزہ کی پٹی میں اسرائیلی وحشیانہ بربریت کے نتیجے میں صنعتی شعبے کو بھی غیرمعمولی نقصان پہنچا ہے۔ بمباری کے نتیجے میں 450 صنعتی یونٹ کلی طور پر تباہ جبکہ 500 صنعتی کارخارنے جزوی طور پر متاثر ہوئے ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق غزہ کی پٹی میں گذشتہ روز حکومت کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران غزہ فیڈریشن آف انڈرسٹریز کے چیئرمین علی الحائیک نے اسرائیلی بمباری سے صنعتی شعبے کو ہونے والے نقصان کی تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے تباہ کاری کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کی ایک ویڈیو رپورٹ تیار کی تھی جو اجلاس میں پیش کی گئی۔ اجلاس میں قومی حکومت کے نائب وزیراعظم و وزیر اقتصادیات محمد مصطفیٰ عبر اور وزیر محنت مفید الحسائنہ بھی موجود تھے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ غزہ کی پٹی میں صنعتی یونٹ مقامی آبادی کے لیے ذریعہ آمدن کے حوالے سے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسرائیلی فوج کی غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں کارپٹ بمباری میں نہ صرف صنعتی انفراسٹرکچر کو بڑے پیمانے پر تباہ کیا گیا بلکہ براہ راست کارخانوں اور صنعتوں کے مراکز کو بمباری کا نشانہ بنا کرانہیں ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا۔
علی الحائک کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کی بمباری سے ایسے لگ رہا ہے کہ دشمن دانستہ طور پر غزہ کی پٹی کی معیشت کو تباہ کرنے کے لیے ہرطرف تباہی پھیلا رہا ہے۔ کیونکہ صنعتی کارخانے جہاں عام استعمال کی چیزیں تیار ہو رہی ہیں وہ اسرائیل کے لیے کس قسم کے نقصان کا موجب بن سکتی ہیں۔ انہیں تباہ کرنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے۔
اسرائیل کارخانوں کو نشانہ بنا کر صرف غزہ کی پٹی کی معیشت اور صنعت کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کی پٹی میں شہریوں کی ایک بڑی تعداد مقامی صنعت سے وابستہ ہے۔ محدود پیمانے پر لوگوں نے اپنے گھروں میں بھی گھریلو صنعتوں کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے لیکن اسرائیلی دشمن ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت غزہ کی معیشت کو تباہی اور بربادی سے دو چار کرنے کی سازش کر رہا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
