مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق ”پولیٹیکل۔اکنامک ریسرچ انسٹیٹیوٹ” (ماس) کی جانب سے منگل کو جاری کی گئی رپورٹ میں فلسطین میں سنہ 2014 ء کے دوران غزائی بحران اور اس کے اسباب پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطینیوں کو غذائی قلت کا سب سے بڑا سبب اسرائیلی جارحیت ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنہ 2013 ء کی نسبت گذشتہ برس فی کنبہ خوراک میں کمی واقع ہوئی۔ اعدادو شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ غزہ کے عوام بالخصوص اور پورے فلسطین کے بالعموم ایک تہائی خوراک کی کمی کا شکار رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی مسلط کردہ گذشتہ برس کی جنگ معیشت کی تباہی کا سب سے بڑا سبب بنی جس میں صرف غزہ کی زراعت کو ساڑھے چارسو ملین ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔ جنگ کے نتیجے میں غزہ میں اشیائے صرف کی قلت ہوگئی اور موجود اشیاء کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی تھیں۔ بیرون ملک سے ضروری اشیاء کی آمد کا سلسلہ بھی ختم ہوگیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی عاید کردہ اقتصادی پابندیوں کے باعث گزشتہ آٹھ برسوں میں غزہ کی پٹی میں بے روزگاری بھی اپنے عروج کو پہنچ چکی ہے۔ تجارتی سامان کی خریدو فروخت میں کمی کے باعت سامان تجارت کی نقل و حمل میں 45 فی صد کمی آئی۔
گذشتہ برس کی جنگ سے قبل غزہ کے عوام 57 فی صد غزائی قلت کا شکار تھے، جنگ کے بعد اس شرح میں مزید اضافہ ہوا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
