بچوں کے دفاع کے لیے سرگرم عالمی ادارے کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آٹھ جولائی سے 18 جولائی تک دس روز کے دوران فلسطینی شہر غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری میں کم سے کم 45 بچے شہید ہوگئے ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق ادارے کے ڈائریکٹر رفعت قسیس نے میڈیا کو بتایا کہ صہیونی فوج دانستہ طور پر ایسے مقامات وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے بموں سے حملے کرتی ہے جہاں خواتین، بچوں اور عام شہریوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صہیونی فوج کے غزہ پر حملوں کے دس روز میں پینتالیس کم سن بچے مارے گئے ہیں۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے صہیونی فوج اور اسرائیلی ریاست کی فلسطینیوں کے خلاف جارحانہ پالیسی کی شدید مذمت کی اور بچوں کے قتل عام کو عالمی انسانی حقوق کی اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ عالمی قانون شہری آبادی میں بم برسانے کی قطعی اجازت نہیں دیتا چاہے وہاں پر کتنا ہی کوئی سنگین نوعیت کا مجرم بھی موجود ہو۔
خیال رہے کہ آٹھ جولائی سے جاری اسرائیلی فوج کی وحشیانہ کارروائیوں میں اب تک اڑھائی سو فلسطینی شہید اور 1800 زخمی ہوچکے ہیں۔ شہداء اور زخمیوں کی اکثریت عام شہریوں پر مشتمل ہے۔
