مقامی شہریوں نے بھی شرکت کی اور ترک حکومت کے تعاون کاخصوصی شکریہ ادا کیا۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اجتماعی شادی کی تقریب ترک وزارت مذہبی امور اور ترکی کی سرکاری ایجنسی برائے رابطہ و ہم آہنگی "ٹیکا” کے تعاون سے انجام پائی۔
ذرائع کے مطابق رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے والے دو ہزار جوڑے پہلے وسطی غزہ کی پٹی میں السریا کے مقام پر جمع ہوئے جہاں سے وہ اجتماعی شکل میں یرموک گرائونڈ پہنچے جہاں شادی کی مختلف رسوم اور نکاح کے مراحل کی تکمیل کے بعد آنے والے مہمانوں کی تواضع کی گئی۔
اجتماعی شادی بھائی چارے کے فروغ کا ذریعہ
اجتماعی شادی کی تقریب میں اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے سیاسی شعبے کے نائب صدر اور سابق وزیراعظم اسماعیل ھنیہ نے بھی شرکت کی۔ انہوں نے ترک حکومت کی جانب سے غزہ کی پٹی میں اجتماعی شادیوں کی تقریب کے انعقاد پر اپنی جماعت اور پوری فلسطینی قوم کی جانب سے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اجتماعی شادیوں کا یہ پروگرام نہ صرف پوری فلسطینی قوم کے لیے خوشی اور مسرت کا موقع ہے بلکہ یہ فلسطینی قوم اور ترکی کے درمیان بھائی چارے کے فروغ کا بھی ذریعہ بنے گا۔
انہوں نے کہا کہ فلسطین اور غزہ مظلوموں کی سرزمین ہے۔ اجتماعی شادیوں کی یہ تقریب صہیونی مظالم کے شکار فلسطینیوں کو خوشی کا ایک نیاموقع فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ خوشی کا یہ موقع اس وقت پایہ تکمیل کو پہنچے گا جب وطن عزیز دشمن کے قبضے سے آزاد ہو گا۔
اسماعیل ھنیہ نے ایک سال قبل اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی جنگ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اکاون دن تک اسرائیل نے غزہ کی پٹی فضائی، بحری اور بری کارروائی جاری رکھی جس کے نتیجے میں اہل غزہ زخموں سے چور تھے لیکن اس وقت بھی ترکی نے خون میں ڈوبے فلسطینیوں کو سہارا دینے کی کوشش کی ہے۔
غزہ میں تعمیراتی منصوبوں کا اعلان
اس موقع پر اسماعیل ھنیہ نے ترکی کے تعاون سے غزہ کی پٹی میں 19 دونم رقبے پر 20 منزلہ پلازہ تعمیر کرنے کا اعلان کیا جس میں 340 رہائشی فلیٹس بنائے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ پلازہ زیرتعمیر ہے اور رواں سال موسم گرما کے دوران منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ ترکی کی جانب سے اجتماعی طورپر رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے والے جوڑوں کو 40 لاکھ ڈالر کی رقم ادا کی جائے گی جس کے ذریعے وہ اپنی روز مرہ کی زندگی کا آغاز کریں گے۔
اسماعیل ھنیہ نے 31 مئی 2010ء کو غزہ کی پٹی کے لیے امدادی سامان لے کر آنے والے ترک امدادی کارکنوں کی شہادت کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا ترک رضاکاروں نے فلسطینیوں کی خاطر اپنی جان کی قربانی پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترک اور فلسطینی قوم کا خون ایک ہے اور جہاں ایک قوم کا خون گرے گا وہاں دوسرے بھی اپنا خون پیش کریں گے۔ ضرورت پڑی تو فلسطینی عوام بھی اپنا خون ترک قوم کے لیے پیش کریں گے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
