مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق شہید ہونے والے نوجوان 22 سالہ محمد عسیلہ کو ترکی میں بھی علاج کے لیے جایا گیا تھا تاہم وہ جاں بر نہ ہوسکا اور اسپتال ہی میں دم توڑ گیا۔
اطلاعات کے مطابق تین ماہ موت و حیات کی کشمکش میں رہنے کے بعد جام شہادت نوش کرنے والا فلسطینی نوجوان مشرقی جبالیا میں عزبہ عبد ربہ کالونی میں صہیونی فوج کے جنگی طیاروں اور توپ خانے کی ایک ساتھ بمباری میں زخمی ہوگیا تھا۔ اس کے ساتھ متعدد خاندان اور کئی دوسرے شہر شہید اور زخمی ہوگئے تھے۔
خیال رہے کہ صہیونی فوج نے سات جولائی سے 26 اگست 2014ء کے درمیان اکاون روز تک غزہ پر دن رات بمباری جاری رکھی جس کے نتیجے میں کم سے کم 2162 فلسطینی شہید اور ہزاروں کی تعداد میں شہری زخمی ہوگئے تھے۔ بمباری کے نتیجے میں غزہ کی پٹی کا بیشتر حصہ ملبے کا ڈھیر بن گیا تھا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
