فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں وسط جولائی کے بعد سے اگست کے پہلے ہفتے تک جاری رہنے والی وحشیانہ کارروائی اور بربریت کے نتیجے میں شہداء کی تعداد 1980 تک جا پہنچی ہے جبکہ 10 ہزار 196 شہری زخمی ہوئے ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق غزہ وزارت صحت کے ترجمان نے اسرائیلی جارحیت میں شہداء کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں شدید زخمی ہونے والے متعدد فلسطینی گذشتہ روز زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جام شہادت نوش کرگئے جس کے بعد اب تک شہداء کی مجموعی تعداد انیس سو اسی تک جا پہنچی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر اشرف القدرہ نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی بمباری کے دوران جن شہداء کو سپرد خاک کیا گیا ان کے بارے میں مفصل معلومات جمع نہیں کی جاسکیں ہیں کیونکہ بمباری کے خوف سے شہداء کو جلد بازی میں سپرد خاک کیا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وحشیانہ بمباری سے مکانات کے ملبے تلے اب بھی شہداء کے جسد خاکی ہوسکتے ہیں۔
ترجمان وزارت صحت نے کہا کہ شہداء میں 470 بچے، 343 خواتین، 88 معمر افراد اور ایک اطالوی صحافی شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں 3084 بچے، 1970 خواتین اور 368 عمر رسیدہ افراد شامل ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
