فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں 2 ماہ تک جاری رہنے والی صہیونی فوج کشی کے بعد اگست کے آخر میں طے پائی جنگ بندی کو ابھی ایک ہفتہ ہی گذرا ہے کہ صہیونی فوج نے غزہ میں دوبارہ مداخلت شروع کر دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق جنوبی غزہ کے علاقے رفح کے مشرقی سمت سے اسرائیلی فوج کی بکتر بند گاڑیاں اور ٹینک ایک مرتبہ پھر کوئی 100 میٹر اندر داخل ہوئے۔
مقامی ذرائع نے مرکز اطلاعات فلسطین کو بتایا کہ صہیونی فوجی ٹینکوں کےہمراہ بلڈوزر بھی داخل ہوئے جن کی مدد سے فلسطینی شہریوں کے کھیتوں میں کھدائی کی گئی۔ اس دوران اسرائیل کے جنگی طیارے اور بغیر پائلٹ کے ڈرون طیاروں کی نچلی پروازوں کا غیرمعمولی سلسلہ بھی جاری رہا۔
ادھر غزہ کی پٹی کے ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ صہیونی بحریہ انہیں آزادانہ سمندر میں ماہی گیری سے اب بھی روک رہی ہے۔ حال ہی میں مصر کی ثالثی کے تحت طے پائے جنگ بندی معاہدے میں غزہ کے شہریوں کو سمندر میں چھ کلو میٹر کے علاقے میں جانے اور مچھلیوں کے شکار کی اجازت دی گئی تھی لیکن اس کے باوجود اب بھی تین کلو میٹر سے آگے بڑھنے پر صہیونی فوج ماہی گیروں پر فائرنگ شروع کردیتی ہے۔
مقامی ذرائع نے مرکز اطلاعات فلسطین کو بتایا کہ صہیونی فوجی ٹینکوں کےہمراہ بلڈوزر بھی داخل ہوئے جن کی مدد سے فلسطینی شہریوں کے کھیتوں میں کھدائی کی گئی۔ اس دوران اسرائیل کے جنگی طیارے اور بغیر پائلٹ کے ڈرون طیاروں کی نچلی پروازوں کا غیرمعمولی سلسلہ بھی جاری رہا۔
ادھر غزہ کی پٹی کے ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ صہیونی بحریہ انہیں آزادانہ سمندر میں ماہی گیری سے اب بھی روک رہی ہے۔ حال ہی میں مصر کی ثالثی کے تحت طے پائے جنگ بندی معاہدے میں غزہ کے شہریوں کو سمندر میں چھ کلو میٹر کے علاقے میں جانے اور مچھلیوں کے شکار کی اجازت دی گئی تھی لیکن اس کے باوجود اب بھی تین کلو میٹر سے آگے بڑھنے پر صہیونی فوج ماہی گیروں پر فائرنگ شروع کردیتی ہے۔
جنگ بندی معاہدے میں فلسطینی شہریوں کو سرحد کے قریب اپنے کھیتوں میں کام کاج کی اجازت فراہم کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا تھا لیکن اسرائیلی بارڈر فورسز غزہ کے کسانوں کو اپنے کھیتوں میں کام کاج سے مسلسل روک رہی ہے۔
