فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں آج ہفتے کے روز اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کی اپیل پر "نصرت انتفاضہ القدس” کے حوالے سے ایک عظیم الشان احتجاجی مظاہرے کا اہتمام کیا گیا جس میں لاکھوں افرادنے شرکت کی۔
رپورٹ کے مطابق نصرت القدس اور مغربی کنارے کے حوالے سے ریلی شمالی غزہ میں بیت لاھیا کے مقام پر نکالی گئی، جس میں فلسطینی شہداء کے اہل خانہ،بچوں، خواتین اورلاکھوں دیگر شہریوں نے شرکت کی۔مظاہرین نے ہاتھوں میں مسجد اقصیٰ کی حمایت پر مبنی نعروں والے پوسٹر اور بینرز، حماس اور فلسطینی پرچم اٹھا رکھے تھے۔ مظاہرین نے مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس کے عوام کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ مغربی کنارے اور بیت المقدس کے عوام نے صہیونی دشمن کے خلاف اور قبلہ اول کی زمانی ومکانی تقسیم کی سازشوں کے خلاف عظیم الشان ریلی نکال رکھی ہے۔ مظاہرین نے فلسطینی اتھارٹی سے اسرائیل کے ساتھ جاری سیکیورٹی تعاون ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے حماس کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر صلاح الدین بردویل نے کہا کہ ہمیں اطلاعات ملی ہیں کہ فلسطینی اتھارٹی اسرائیل کے ساتھ مل کر دفاع قبلہ اول کے لیے جاری فلسطینی تحریک کو ناکام بنانے کی سازشیں کررہی ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کی ذمہ داری ہے کہ صہیونی دشمن کےخلاف تحریک چلانے والے فلسطینیوں کا دفاع اور ان کی پشتیبانی کرے۔ مغربی کنارے میں اور بیت المقدس میں فلسطینی عوام کی تحریک صہیونی ریاست کے جبرو تشدد اور ظلم کے خلاف حق کی آواز ہے۔ فلسطینی اتھارٹی اسے روکنا بھی چاہے تو نہیں روک سکتی کیونکہ یہ تحریک اس فلسطینی قوم نے شروع کی ہے جو جذبہ آزادی اور شوق شہادت سے سرشار ہے۔
القدس اور مغربی کنارے کے عوام سے یکجہتی پر مبنی ریلی میں دوسری فلسطینی قیادت نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے بھی اسرائیلی مظالم اور صہیونی دشمن کے ساتھ فلسطینی اتھارٹی کے گٹھ جوڑ کی شدید مذمت کی اور شہداء کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔
