مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق عالمی بنک کے واشنگٹن میں قائم ہیڈ کواٹرسے جاری ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں بے روزگار نوجوانوں کی تعداد 43 فی صد تک پہنچ گئی ہے۔ بے روزگاری کا یہ ایک نیاعالمی ریکارڈ ہے، کیونکہ بے روزگار افراد کی اکثریت جامعات کے نئے فارغ ہونے والے طلباء پرمشتمل ہے جن کےپاس کرنے کے لیے کوئی کام نہیں ہے۔
عالمی بنک نےغزہ کی پٹی کی معاشی ناکہ بندی کا ذمہ دار براہ راست قابض اسرائیل اور پڑوسی ملک مصرکو قراردیا اور کہا کہ غزہ کے عام کا گلا گھوٹنے میں یہ دونوں ملک ذمہ دار ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی پرعاید معاشی پابندیوں کے نتیجے میں مقامی پیداوار نصف سے بھی کم ہو کر رہ گئی ہے اور ایک عام شہری کی اوسط آمدنی سنہ 1994 ء کی شرح آمدن سے بھی 31 فی صد کم ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرغزہ کی پٹی کو مصر اور اسرائیل کی جانب سے پابندیوں کا سامنا نہ ہو تو غزہ کی پٹی کی معیشت موجودہ حساب سے چار گنا بہتر ہوسکتی ہے۔
یہ رپورٹ عالمی بنک کے مشرق وسطیٰ کے ڈائریکٹر اسٹین لائو یورجنسن نے تیار کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سنہ 2014 ء کی جنگ اورمعاشی ناکہ بندی غزہ کی معیشت کی تباہی کے دو بڑے اسباب ہیں۔ درآمدات وبرآمدات کم اور مقامی صنعتی پیداوار میں 60 فی صد کمی کردی ہے۔
یہ رپورٹ آئندہ ہفتے برسلز میں ہونے والے ڈونرز ممالک کے اجلاس میں بھی پیش کی جائے گی جس میں بتایا جائے گا کہ غزہ کی پٹی میں بجلی، پانی، سیوریج، معیشت، زراعت اور دیگر شعبہ ہائے زندگی میں کس طرح کی مشکلات کا سامنا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
