مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق وسطی پیرس میں الشاتلیہ گرائونڈ میں ہونے والے مظاہرے کے شرکاء نےہاتھوں میں فلسطینی پرچم، بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر غزہ کی ناکہ بندی کے خاتمے کے مطالبات درج تھے۔ مظاہرین نے یورپی یونین سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ غزہ کی معاشی ناکہ بندی کے خاتمے کے لیے اسرائیل پر دبائو ڈالے۔
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے انسانی حقوق کے مندوبین نے غزہ کی پٹی کی تمام بین الاقوامی راہ داریاں بالخصوص رفح گذرگاہ کو کھولنے کا مطالبہ کرنے کے ساتھ جنگ سے تباہ حال علاقوں کی فوری تعمیر نو، آبی گذرگاہ کھولنے اور غزہ میں بندرگاہ کے قیام کا بھی مطالبہ کیا۔
خیال رہے کہ یورپی ممالک میں غزہ کی پٹی کی ناکہ بندی کے خلاف سرگرم یورپی مہم نے گذشتہ برس 27 دسمبر کو غزہ کی ناکہ بندی کے خاتمے کے لیے ایک مہم شروع کی تھی۔ یہ مہم غزہ کی پٹی پر دسمبر 2008 ء میں مسلط کی گئی جنگ کی چھٹی برسی کے موقع پر کی گئی۔
پیرس میں منعقدہ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے بین الاقوامی عوامی کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر عصام یوسف نے غزہ کی معاشی ناکہ بندی کے فوری خاتمے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ یورپی ملکوں کے بعد عرب ممالک اور اسلامی دنیا میں بھی غزہ کے عوام سے اظہار یکجہتی کےلیے ریلیاں منعقد کریں گے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
