رپورٹ کے مطابق غزہ کی پٹی میں اتوار کو ایک نیوز کانفرنس کے دوران ملازمین یونین کے چیئرمین محمد صیام نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی تمام ملازمین کو آئینی اور قانونی طورپر ان کے حقوق فراہم کرنےکا مطالبہ تسلیم کرے۔ اگر قومی مفاہمت کے تحت کوئی ایسی حکومت قائم ہوتی ہے جو حماس کے دور میں بھرتی ہونے والے ملازمین کو تنخواہیں ادا کرنے سے انکار کرتی ہے تو ایسی حکومت کے ساتھ کوئی تعاون نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مفاہمت اور مصالحت کا ہر راستہ ملازمین کے حقوق سے ہو کر گذرتا ہے۔
خیال رہے کہ سنہ 2007 ء سے اپریل 2015 ء تک غزہ کی پٹی میں حماس کی قائم کردہ حکومت میں 50 ہزار افراد کو بھرتی کیا گیا تھا۔ فلسطینی صدر محمود عباس اور ان کی جماعت تحریک فتح کا موقف ہے کہ فلسطینیوں کے درمیان قومی اتفاق رائے سے وجود میں آنے والی حکومت ان ہزاروں ملازمین کو تسلیم کرنے کے بجائے انہیں فارغ کردے۔ تاہم ملازمین اور حماس دونوں اس پر مصر ہیں کہ ملازمین کو ان کے حقوق ہرصورت میں دیے جائیں گے۔
فلسطینی ملازمین کی یونین کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ حماس کے دور میں بھرتی ہونے والے تمام افراد آئین اور قانونی طورپر سرکاری ملازم ہیں۔ وہ ان تمام مراعات اورمالیات حقوق کے مستحق ہیں جو فلسطینی اتھارٹی کے ہاں غرب اردن میں بھرتی کیے جاتے ہیں۔
