مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق "اونروا” کے ڈائریکٹر آپریشنز رابرٹ ٹیرنر نے غزہ کی پٹی میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ پچھلےسال موسم گرما میں غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور لاکھوں افراد مکان کی چھت سے محروم کھلے آسمان تلے زندگی بسرکرنے پرمجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں متاثرین کو امداد فراہم نہ کی گئی کشیدگی دوبارہ پیدا ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام اس وقت سخت غم وغصے میں ہیں اور وہ عالمی برادری سے کیے گیے امداد کے وعدوں پر جلد ازجلد عمل درآمد کرانا چاہتے ہیں۔
رابرٹ ٹیرنر کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی میں معیشت کی بہتر، تعمیر نو اور سیاسی استحکام بنیادی چیلنچز ہیں۔ اگر فلسطینیوں کے مسائل حل نہ ہوئے تو غزہ میں فسادات دوبارہ شروع ہوسکتے ہیں۔
مسٹر ٹیرنر کا کہنا تھا کہ فلسطینی سیاسی جماعتوں کے درمیان قومی مفاہمت کا عمل آگےبڑھانے کی اشدت ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ غزہ کی سرحدوں کی سیکیورٹی بھی ایک اہم چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کی جانب سے امداد نہ ملنے کے باعث ہم متاثرین جنگ کو نقد امداد کی فراہمی جاری نہیں رکھ سکے ہیں جس کے نتیجے میں فلسطینیوں میں امدادی اداروں کے خلاف شدید رد عمل سامنے آیا۔
ایک سوال کے جواب میں اونروا کے ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ ہمیں غزہ کی پٹی میں تعمیر نو کے لیے اب تک صرف 135 ملین ڈالرز کی رقم ملی ہے جبکہ ہم سے 720 ملین ڈالر کی رقم کے وعدے کیے گئے ہیں۔
یو این عہدیدار کا کہنا تھا کہ ہمیں فوری طور پر 08 ہزار خاندانوں کو اپنے متاثرہ مکانات کی مرمرت کے لیے 18 ملین ڈالر کی رقم فوری درکار ہے۔ اس کے بعد ہمیں 31 ہزار خاندانوں کو مکانات کی تعمیر اور بحالی کی مدات میں دوسرے مرحلے میں امداد فراہم کرنا ہوگی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
