اقوام متحدہ نے فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں پچھلے ایک ماہ کے دوران اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری اور بربریت کو آشکار کرنے کے لیے نقشوں کی ایک نئی کتاب جاری کی ہے۔
مصنوعی سیاروں سے لی گئی تصاویر کی مدد سے تیار کردہ کتاب میں غزہ کی پٹی میں ہونے والی تباہی کے مناظردکھائے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر 108 صفحات کو محیط اس کتاب میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں غزہ کی پٹی میں کوئی ایک گھر بھی ایسا نہیں جو مکمل طور پر محفوظ رہا ہو۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اقوام متحدہ کی تیار کردہ اس کتاب میں مختلف رنگوں کی لکیروں کی مدد سے غزہ کی پٹی میں ہونے والی تباہی کی وضاحت کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر سرخ لکیر نقشے میں اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اس لکیر کے ساتھ ساتھ وہ مقامات ہیں جہاں اسرائیلی فوج نے کارپٹ بمباری کی اور مساجد، مکانات، اسپتال، اسکول اور دیگر عمارتیں مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔
عالمی ادارے میں مختلف ملکوں کے نقشوں کی تیاری کے شعبے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ہونے والی غیر معمولی تباہی کے مناظر دکھانے کا مقصد شہر کی تعمیرنو پر اٹھنے والے اخراجات کا اندازہ لگانا ہے۔ چونکہ اسرائیلی فوج نے بلا استثنیٰ غزہ کی پٹی میں اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے پناہ گزین "اونروا” کے زیر ِ انتظام اسکولوں، اسپتالوں اور دیگر اداروں کو بھی تباہ کیا ہے۔ اس لیے عالمی ادارہ اس نقشے سے یہ تعین کرے گا کہ آیا تباہی کے بعد اب تعمیرِ نو پر کتنا وقت درکار ہو گا اور اس پر کتنے اخراجات آئیں گے۔
درج ذیل لنک سےآپ بھی نقشے کا ملاحظہ کر سکتے ہیں
http://my.ynet.co.il/pic/news/GazaCrisisAtlas_2014_web.pdf
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
