جنگ سے متاثرہ اور اسرائیلی ناکہ بندی کے شکار فلسطینی علاقے غزہ کی پٹی میں پینے کے صاف پانی کا بحران مزید سنگین شکل اختیار کرگیا ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ شہر میں آلودہ پانی 40 فی صد اموات کا باعث بن رہا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق غزہ کی پٹی میں واٹر اینڈ انوائرمنٹ انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر عدنان عائش نے میڈیا کو بتایا کہ ان کی تحقیق یہ باتی ہے کہ غزہ کی پٹی میں پانی کی آلودی ایک سنگین مسئلہ ہے جو قومی سلامتی کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی میں پانی کی آلودگی کا براہ راست ذمہ دار اسرائیل ہے کیونکہ صہیونی فوج کی جانب سے جنگجوں کے دوران بے دریغ کیمیائی ہتھیار استعمال کیے جاتے رہے ہیں جس کے مضر اثرات اب غزہ کی زمین اور پانی میں سرایت کرچکے ہیں۔ اس کے علاوہ اسرائیل کی مسلط کردہ معاشی ناکہ بندی کے نتیجے میں پانی کو فلٹر کرنے کا کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں کیا جاسکا ہے۔ آئے روز شہر میں ہونے والی ہلاکتوں میں ایک بڑی وجہ پانی کی آلودگی بھی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق غزہ کی پٹی میں چالیس فی صد اموات کا سبب آلودہ پانی ہے۔
عدنان عائش کا کہنا ہے کہ آلودہ پانی کے استعمال سے شہریوں میں کینسر، جگر، معدے ، انیمیا اور پھیپھڑوں کی مہلک بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔ غزہ کی ناکہ بندی کے باعث ان مہلک امراض کی روک تھام کے لیے بھی کوئی خاطر خواہ بندوبست نہیں ہوسکا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
