ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے حماس سے جنگ بندی کر کے ایک بڑی غلطی کی ہے کیونکہ جنگ بندی اس فریق کے ساتھ کی جاتی ہے جو دوسرے کو تسلیم بھی کرتا ہو۔ حماس اسرائیل کوسرے سے تسلیم ہی نہیں کرتی لہٰذا اس سے جنگ بندی کا کوئی جواز نہیں ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل کے انتہا پسند وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ حماس کوئی فریق تو نہیں کہ اس کے ساتھ سیاسی اور عسکری سمجھوتہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ میں ذاتی طورپر اس جنگ بندی پر اتفاق نہیں کرتا، کیونکہ جنگ بندی کا مطلب میرے نزدیک حماس کو اپنی عسکری صلاحیت کو مزید بہتر بنانے کا خود موقع فراہم کرنا ہے۔
ابھی حماس کی جانب سے غزہ کی پٹی میں کھودی کئی سرنگیں اور جمع کردہ اسلحہ ہی ایک بڑا چیلنج ہے۔ مزید جنگ بندی کر کے حماس کو اسلحہ جمع کرنے کا ایک اور موقع دے دیا گیا ہے۔
