فلسطین کے محصور ساحلی شہرغزہ کی پٹی میں توانائی کا بحران کئی ہفتے گذر جانے کے بعد بھی برقرا رہے۔ بجلی کی پیداوار میں ہونے والی قلت کے باعث شہر کے بیشترعلاقے تاریکی میں ڈوبے ہوئے ہیں اور نظام زندگی معطل ہو کر رہ گیا ہے۔
غزہ کی پٹی میں مرکز حقوق اسیرن کی فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق شہر میں بجلی کے طویل بریک ڈاؤن کے نتیجے میں اسپتالوں اورتعلیمی اداروں سمیت تمام اداروں میں ملازمین کو سنگین نوعیت کی مشکلات کا سامنا ہے۔ سب سے زیادہ پریشانی اسپتالوں کےعملے اور مریضوں کو اٹھانی پڑ رہی ہے، کیونکہ کئی ماہ سے جاری بجلی کے بحران کے باعث مریضوں کی حالت مزید ابتر ہوتی جا رہی ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بجلی کی قلت کے باعث شہرمیں انسانی بحران پیدا ہو چکا ہے اور گنجان آباد شہرکی ڈیڑھ ملین سے زائد آبادی اندھیرے میں ڈوب چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق غزہ کے شہری بجلی کے بحران کے باعث اقتصادی، سماجی اور ثقافتی حقوق سے فائدہ اٹھانے میں محرومی کا سامنا کر رہے ہیں۔ بجلی نہ ہونے کے باعث کئی علاقوں میں پانی کی سپلائی معطل ہے جس سے شہر کے آس پاس کے علاقوں میں پانی جیسی بنیادی ضرورت کے حصول میں بھی سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ صحت، تعلیم، مواصلات اور دیگر تمام شعبہ ہائے زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیم نے مصری حکومت اور دیگرممالک پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی کو خام تیل کی فراہمی جنگی بنیادوں پر شروع کریں تاکہ بحران اور انسانی المیے سے دوچار شہر کی آبادی کو مشکلا ت سے بچایا جا سکے۔
خیال رہے کہ فلسطینی شہرغزہ کی پٹی پر اسرائیل کی جانب سے گذشتہ چھ سال سے معاشی ناکہ بندی مسلط کر رکھی جسے کے باعث دیگر بحرانوں میں اب بجلی کا جن سرچڑھ کر بول رہا ہے۔ غزہ کی حکومت نے مصری حکومت اور دیگر پڑوسی ملکوں سے توانائی کے بحران پر قابون پانے میں مدد کی اپیلیں کی تھیں تاہم اس کے باوجود شہر میں توانائی کا بحران بدستور موجود ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

