رپورٹ کے مطابق قطری سفیر محمد العمادی کل سوموار کو اچانک شمالی غزہ سے ’’ایریز‘‘ گذرگاہ سے غزہ میں داخل ہوئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ کچھ روز تک غزہ کی پٹی میں قیام کریں گے جہاں ان کی ملاقات اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ کی قیادت کے ساتھ ساتھ دیگر سیاسی جماعتوں کے رہ نماؤں سے بھی ہوگی۔
فلسطینی حکومت کے ایک ذریعے نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ العمادی غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے درمیان مفاہمتی معاملات پر بات چیت کے لیے آئے ہیں۔ ان کی غزہ آمد دوحہ میں حماس اور تحریک فتح کے درمیان ہونے والی بات چیت کو آگے بڑھانے کا حصہ ہے۔
خیال رہے کہ قطرنے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی جنگ سے بتاہ ہونے والے مکانات اور دیگر منصوبوں کے لیے 50 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کررکھی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ فلسطینی تنظیموں حماس اور فتح کے درمیان مفاہمت کے سلسلے میں ہونے والی مساعی میں بھی قطر گہری دلچسپی لے رہا ہے۔
