فلسطینی وزیر انصاف سالم السقا نے بدھ کے روز 18 لاکھ فلسطینی شہریوں کو غزہ کی پٹی میں تنہا کرنے والے اسرائیلی محاصرے کو انسانی حقوق کی سب سے بد ترین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
سقا نے مقبوضہ فلسطین میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق، غزہ میں انسانی حقوق کے ہائی کمشنر اور غزہ کے انسانی حقوق افسر سے ایک ملاقات کے دوران بتایا کہ یہ محاصرہ صریحا ناانصافی پر مبنی ہے۔
وزیر غزہ نے بتایا کہ موجودہ فلسطینی حکومت قومی اتفاق رائے سے وجود میں آئی ہے جس میں وہ ٹیکنوکریٹس شامل ہیں جو کہ اس وقت تک سارے معاملات کو دیکھیں گے جب تک اگلے پارلیمانی اور صدارتی انتخابات کا اعلان نہیں ہوجاتا ہے۔
سقا کے مطابق فلسطینی متحدہ حکومت کو غزہ کے محاصرے کے خاتمے، موجودہ حالات زندگی میں بہتری اور سماجی و معاشی مسائل کے خاتمے کے لئے سنجیدہ اور عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔
وزیر انصاف نے غزہ کے شہریوں کے مصائب کے حوالے سے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں دائمی امراض کی ادویات اور طبی سامان تقریبا ختم ہوچکا ہے۔
اس موقع پر اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر نے فوری طور پر غزہ پر مسلط محاصرہ اٹھانے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کا کمیشن متحدہ فلسطینی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لئے تیار ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
