مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم’’خاموشی توڑیئے‘‘ نے اکاون روزہ جنگ میں شریک رہنے والے 60 اسرائیلی فوجی اہلکاروں کے بیانات کو اپنی رپورٹ میں شامل کیا ہے اور بتایا ہے کہ فوج کو حکم تھا کہ وہ خود کو درپیش ہرطرح کے خطرے کی روک تھام کے لیے جو کچھ کرنا ضروری ہو کرگذریں۔
ایک فوجی اہلکار نے بتایا کہ غزہ جنگ کے دوران فوجیوں کو حکم تھا کہ وہ اپنے راستے میں حائل ہونے والی ہرچیز کو تباہ کردیں۔ حتیٰ کہ اگرانہیں بے گناہ فلسطینیوں کو قتل کرنا پڑے تو اس میں ذرا بھی تامل سے کام نہ لیں۔ یہی اجازت غزہ کی پٹی میں بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان کا باعث بنی ہے کیونکہ اجازت ملنے کے بعد فوجیوں نےاندھا دھند گولہ باری شروع کردی تھی۔
ایک دوسرے فوجی کا کہنا تھا کہ ’’ہمیں واضح ہدایات تھیں جس جگہ پرفوج قبضہ کرلے وہاں نظرآنے والا کوئی بھی شخص سول نہیں ہوسکتا۔ وہ کوئی مزاحمت کار ہی ہوسکتا ہے۔ اس لیے اسے فورا ہی گولیوں سے بھون ڈالیں‘‘۔
اس فوجی نے بایا کہ اس نے شمالی غزہ کی پٹی میں ایک فوجی کارروائی میں حصہ لیا۔ جنگ کے دوران دن کے وقت ایک معذور اور عمر رسیدہ فلسطینی نظرآیا۔ جسے گولیاں مار کرشہید کردیا گیا۔ بعد ازاں اسرائیلی بلڈوز نے شہید فلسطینی کو اس کے مکان کے ملبے تلے دفن کردیا تھا۔
ایک اور صہیونی فوجی دہشت گرد نے کہا کہ اس نے جنوبی غزہ میں ایک کارروائی میں حصہ لیا۔ اس دوران اس نے دو فلسطینی خواتین کوگولیاں ماریں۔ حالانکہ وہ دونوں کھیتوں میں ہم سے کئی سو میٹر دو جا رہی تھیں اور ان کے پاس کوئی مشکوک شے بھی نہیں تھی اس کےباوجود ہمیں کہا گیا کہ یہ دونوں خواتین’’مشکوک‘‘ ہیں اور انہیں قتل کرنا ضروری ہے۔ ہم نے ان خواتین پر فائرنگ کی اور ساتھ ہی ایک ڈرون طیارے نے ان پر میزائل بھی داغ دیا، جس کے نتیجے میں ان کے جسم کے اعضاء ہوا میں بکھر گئے تھے۔
فوجی اہلکار نے خود ہی اپنی درندگی بیان کرتے ہوئے کہا کہ دونوں خواتین کو قتل کیے جانے کے بعد ہم ان کی میتوں کے قریب پہنچے تو معلوم ہوا کہ ان کی عمریں محض تیس سال ہیں۔ ان کے پاس سوائے ایک موبائل فون کے اور کچھ نہیں تھا تاہم اس کے باوجود ہمیں کہا گیا کہ اپنی رپورٹ میں ہم انہیں بھی’’تخریب کار‘‘ لکھیں۔
ایک اور فوجی اہلکار نے بتایا کہ جنگ کے پہلے روز جنوبی غزہ میں ایک ٹینک کے راستے میں آنے والی خاتون کو گولیاں مار کرقتل کردیا گیا۔ یہ خاتون بھی غیر مسلح اور نہتی تھی جو خود اپنی جان بچا کر بھاگ رہی تھی۔
ایک فوجی نے بتایا کہ جنگ کے تین ہفتے بعد حکم ہوا کہ اگر راستے میں فلسطینی مظاہرین فوجی گاڑیوں پر پتھرائو کریں تو فورا ان پر بمباری کردی جائے۔چنانچہ ایسے کئی واقعات پیش آئے اور ہم راہ چلتے ٹیکسیوں کو بھی نشانہ بناتے اور انہیں تباہ کردیتے تھے۔ اس کے نتیجے میں بڑےپیمانے پرشہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔
ایک فوجی نے بتایا کہ فلسطینیوں کے قتل عام کے ساتھ ساتھ غزہ کی پٹی میں عام شہریوں سے لوٹ مار کا بازار بھی گرم رہا۔ ایک بار ٹینک ایک ٹیکسی اسٹینڈ کے قریب پہنچے۔ ایک فوجی نے ٹینک سے اترکر ایک ٹیکسی میں رکھا سامان چوری کرلیا۔ کسی نے اس فوجی کی اس حرکت پراسے کچھ نہیں کہا۔
خیال رہے کہ پچھلے سال غزہ کی پٹی پراسرائیل کی مسلط کی گئی جنگ کے نتیجے میں 2300 سے زیادہ فلسطینی شہید اور 11 ہزار سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے اپنی رپورٹس میں اسرائیل کو جنگی جرائم کا مرتکب قرار دیا تھا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
