اسرائیل کے وزیر دفاع موشے یعلون نے کہا ہے کہ جولائی اور اگست کے دوران غزہ کی پٹی میں فلسطینی مزاحمت کاروں کے خلاف جاری رہنے والی کارروائی میں فوج کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا اور ماضی کی جنگوں کی نسبت اس جنگ میں فوج کی ‘فتح وکامرانی’ کی ساکھ کو بری طرح نقصان پہنچا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ سنہ 2008ء اور 2012ء کے معرکوں میں فوج کی عزت بچ گئی تھی لیکن اب کی بار فوج کی ساکھ کو غیرمعمولی نقصان پہنچا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق تل ابیب میں "بارایلن” یونیورسٹی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر یعلون کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج کی حقیقی فتح سنہ 1967ء کی چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ تھی جس میں ہماری بہادر فوج نے فتح کے جھنڈے گاڑنے کے ساتھ ساتھ دشمن پر رعب طاری کردیا تھا۔ اس کے بعد اسرائیلی فوج کا ناقابل شکست ہونے کا تاثر برقرار رہا ہے مگر حالیہ جنگ میں اس ساکھ کو نقصان پہنچا۔
صہیونی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ غزہ جنگ کا مقصد حماس کی بڑھتی ہوئی دفاعی صلاحیت کو نقصان پہنچانا تھا۔ فوج اس مقصد میں کسی حد تک کامیاب رہی ہے مگر جوابی کارروائی میں فوج کو جو نقصان اٹھانا پڑا ہے وہ ماضی کی کسی بھی جنگ سے کہیں زیادہ ہے۔ اسرائیلی فوج کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ وہ جس معرکے میں اترتی ہے تو اس کا مقابلہ کرنا آسان نہیں ہوتا۔
موشے یعلون نے دعویٰ کیا کہ فوج نے اکارون روزہ بری،بحری اور فضائی آپریشن میں حماس کے پاس اسلحہ کا 80 فی صد ذخیرہ تباہ کر دیا، حماس کے پاس 10 ہزار راکٹ تھے جن میں جنگ کے اختتامی دنوں میں صرف 1000 رہ گئے تھے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
