اسرائیل کے عبرانی نیوز ویب پورٹل "وللا” کے مطابق غزہ کی پٹی پر حملے سے قبل اسرائیلی فوج نے 1 لاکھ فوجیوں کو جزیرہ نما النقب میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن جنگ کے باعث جہاں فوج اور حکومت کی توجہ اس منصوبے سے ہٹ گئی وہیں صہیونی ریاست کو نئے فوجی اڈے کے قیام کے لیے افرادی قوت اور سرمائے کی بھی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے نتیجے میں منصوبہ التواء کا شکار ہو گیا ہے۔
ویب سائیٹ کی رپورٹ کے مطابق نئے فوجی اڈے کے قیام کے لیے ایک صہیونی تعمیراتی کمپنی "النقب ویو” کو ٹھیکا دیا گیا تھا لیکن فوجی قیادت اس کا افتتاح نہیں کر سکی جس کے باعث یہ کام ابھی تک التواء کا شکار ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی تعمیراتی کمپنی کو جہاں افرادی قوت کی قلت کا سامنا کرنا پڑا وہیں سرمائے کی بھی قلت تھی۔ غزہ کی پٹی سے قبل اس اسکیم پر فوری طور پر عمل درآمد کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکومت نے ایک بڑے فوجی اڈے کے قیام کے لیے جزیرہ نما النقب کو 25 سال قبل مختص کیا تھا لیکن بوجوہ اس پرکام شروع نہیں ہو سکا۔ چند ماہ قبل اسرائیلی وزارت دفاع نے "الباھدیم” فوجی اڈے کے قیام پر جلد از جلد کام شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ منصوبے کے تکمیل پر 09 ارب شیکل کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
