مصری حکام نے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے اتوار کے روز غزہ کی پٹی کے واحد بیرونی راسے رفح بارڈر کو ہرقسم کی ٹریفک اور آمد ورفت
کے لیے بند کر دیا ہے جس کے بعد دونوں جانب سرحد سےآر پار جانے والی ٹریفک کی لائنیں لگی ہوئی ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مصری حکام کی جانب سے اتوار کو مقامی وقت کے مطابق دن کو دو بجے اچانک دو طرفہ ٹریفک کے لیے بند کردیا، جس کے بعد رات بھر میں صرف پانچ بسوں کوغزہ کی پٹی میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی ہے، البتہ آٹھ مزید بسوں کو غزہ سے مصر کی جانب داخل کیے جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سرحدی پھاٹک کی اچانک بندش کے باعث مسافروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ مصری حکام کی جانب سے یہ نہیں بتایا جا رہا ہے کہ آیا بارڈر کی بندش کی وجہ کیا ہے اور آیا یہ کب کھولی جائے گی۔ خیال رہےکہ اتوار کو مصر میں نو منتخب صدر کی کامیابی کا اعلان کیا جانا تھا۔ جس کے لیے ملک کے بعض علاقوں میں ہنگامی حالت نافذ کی ہے۔ ادھر مصر اور اسرائیل کے درمیان سرحدی شہر العریش میں بھی سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے ہیں۔ صحرائے سیناء اور اسرائیل کے درمیان رابطہ السلام پل بھی دو طرف ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
