فلسطینی شہرغزہ کی پٹی میں اسلامی تحریک مزاحمت”حماس” کے سبکدوش وزیراعظم اسماعیل ھنیہ نے کہا ہے کہ تین اہم اقدامات قومی مفاہمت کو آگے بڑھانے میں مدد گار ثابت ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ مخلوط عبوری حکومت کی تشکیل کے لیے حماس اور الفتح کے درمیان صلاح مشورہ مثبت سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔
امید ہے عبوری حکومت وقت مقررہ کے اندر قائم کر لی جائے گی۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسماعیل ھنیہ نے ان خیالات کا اظہار غزہ میں جامعہ مسجد العمری میں نماز جمعہ سے قبل تقریر کے دوران کیا۔ انہوں نے قومی مفاہمت کی کامیابی کے لیے اہم اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ قومی حکومت کی تشکیل کے ہے مشاورت کا عمل تقریبا مکمل ہو چکا ہے، اب اہم عبوری حکومت میں شامل وزراء کے ناموں پرغور کر رہے ہیں۔ کسی بھی وقت عبوری حکومت کا اجلاس بلایا جا سکتا ہے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ قومی مفاہمت کے عمل میں نہ صرف تمام فلسطینی جماعتیں شامل ہیں بلکہ تمام فریقین کھلے دل سے ایک دوسرے کے خیالات کو سن رہے ہیں، جس کے بعد قومی مفاہمت کی کامیابی یقینی دکھائی دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قومی مفاہمت کی کامیابی کا دوسرا اہم قدم مصر کے ساتھ تعلقات بہتر کرنا ہے۔ میں پہلے تو مصری حکومت کی جانب سے فلسطینیوں میں مفاہمت کرانے میں قاہرہ کا شکریہ ادا کروں گا۔ میرا خیال ہے کہ قومی حکومت کی تشکیل کا پہلا اجلاس بھی جمہوریہ مصر میں ہو گا۔ مصر میں سیاسی تبدیلیوں کے باوجود فلسطینی اور مصری عوام کے درمیان گہرے دوستانہ اور برادرانہ تعلقات قائم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قومی مفاہمت کی کامیابی کے لیے تیسرا ضروری اور اہم قدم یہ ہے کہ قومی فنڈ میں متاثرین کے لیے رکھے گئے 50 سے 60 ملین ڈالر کے فنڈز کو غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے میں اسرائیلی جارحیت اور جنگوں سے متاثرہ شہریوں کی بہبود کے لیے استعمال کیا جائے۔ انہوں نے مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں شہری آزادیوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں سے مفاہمتی عمل متاثر ہو سکتا ہے کیونکہ شہریوں کی آزادانہ نقل وحرکت اور آزادی اظہار رائے مفاہمت کا جوہر ہے۔
اسماعیل ھنیہ نے اپنی تقریر میں اسرائیلی جیلوں میں بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی اسیران کے ساتھ مکمل یکجہتی اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے فلسطینی عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ بھوک ہڑتالی اسیر بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے گھروں سے نکلیں اور جلسے جلوسوں اور احتجاجی دھرنوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تاکہ اسرائیل اور پوری دنیا کو یہ پیغام جائے کہ فلسطینی اسیران اپنی حقوق کی جنگ میں تنہا نہیں ہیں۔
