رپورٹ کے مطابق ہفتے کے روز مشرقی غزہ سے کھدائی کے لیے استعمال ہونے والی ’’باقر‘‘ نامی بھاری مشینیں، ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں غزہ کے اندر داخل ہوئی اور نام نہاد سرنگوں کی تلاش کی آڑ میں کئی جگہ مشینوں کی مدد سے کھدائی کی گئی۔
مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ فلسطینی اراضی کی کھدائی کے دوران مشرقی غزہ سے اسرائیلی فوجیوں نے فلسطینی کاشت کاروں پر فائرنگ بھی کی تاہم اس کے نتیجے میں کسی قسم کے جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوسکی۔
خیال رہے کہ اسرائیل کے عبرانی ذرائع ابلاغ نے ایک سینیر فوجی عہدیدار کا بیان نقل کیا ہے جس میں اس کا کہنا ہے کہ جلد ہی غزہ کی سرحد پر فوج ایک بڑی کارروائی کرنے والی ہے تاہم اس کی تفصیلات سامنے نہیں آسکیں کہ آیا وہ کارروائی کس نوعیت کی ہوگی۔
اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ فلسطینی مزاحمتی تنظیمیں بالخصوص اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ نے غزہ کی سرحد پربڑے پیمانے پر زیرزمین سرنگیں کھود رکھی ہیں۔ یہ سرنگیں فلسطینی مزاحمت کاروں کے لیے نہ صرف مورچوں کا کام دیتی ہیں بلکہ ان میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی چھپایا جاتا ہے۔ اسرائیلی کا دعویٰ ہے کہ فلسطینی مزاحمت کار انہی سرنگوں کی مدد سے گھات لگا کر اسرائیلی فوجیوں کویرغمال بنانے کے لیے بھی حملے کرتے ہیں۔
