مرکزاطلاعات فلسطین کےمطابق جرمن وزیرخارجہ اشٹائنمیر دو روز قبل مشرق وسطیٰ کے خصوصی دورے پر فلسطین پہنچے تھے جہاں انہوں نے فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیلی حکومت کے عہدیداروں سے بھی ملاقات کی ہے۔گذشتہ روز فلسطینی اتھارٹی اوراسرائیلی حکومت کی اہم شخصیات سے ملاقاتوں کے دوران انہوں نے غزہ کی پٹی کےمحاصرے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ایک عشرے سے غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی پابندیوں کے سنگین نتائج سامنے آئے ہیں۔
اسرائیلی صدر رئوفین ریلفین سےملاقات کے دوران جرمن وزیرخارجہ نے ان کی توجہ غزہ کی پٹی میں شہریوں کے مسائل کی طرف مبذول کرائی اور کہا اب وقت آ گیا ہے کہ غزہ کی پٹی کےعوام کے روز مرہ کے معمولات کو بہتر بنانےاور زندگی معمول پرلانے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔
بعد ازاں فلسطینی وزیراعظم رامی الحمد اللہ سے رام اللہ میں ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب میں جرمن وزیرخارجہ نے غزہ کی پٹی میں تعمیر نو کا کام تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں خود غزہ کی پٹی کا دورہ کرنے کے بعد صورت حال کا جائزہ لینا چاہتا ہوں تاہم ان کا کہنا تھا کہ غزہ دورے کےدوران حماس کی قیادت سے ملاقات کا کوئی پروگرام شیڈول میں شامل نہیں ہے۔
فلسطینی وزیراعظم نے جرمنی کی جانب سے فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت کرنے اور جرمن وزیرخارجہ کے دورہ فلسطین کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اسرائیل اور عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ غزہ کی پٹی میں تعمیر نو کے کام کوآگے بڑھانے کے لیے بھرپور مدد فراہم کریں۔
دوسری جانب اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” نے جرمن وزیرخارجہ کے دورہ غزہ کو اہمیت کا حامل قرار دیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں حماس نے کہا ہے کہ جماعت جرمن وزیرخارجہ کے دورہ غزہ کا خیر مقدم کرتی ہے اور یہ مطالبہ کرتی ہے کہ وہ غزہ کی پٹی کی حقیقی تصویر دنیا کے سامنے پیش کریں تاکہ غزہ کی پٹی پرعائد پابندیوں کو ختم کرنے میں مدد فراہم کی جا سکے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
