غزہ کی پٹی میں گذشتہ روز اسرائیل کے لیے جاسوسی کے مرتکب 18 افراد افراد کو گولیاں مار کرہلاک کیے جانے کے بعد دشمن کو خفیہ معلومات فراہم کرنے میں ملوث ایک دوسرے گروپ نے خود کو رضاکارانہ طو رپر حکام کے حوالے کردیا۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ غزہ کی پٹی میں فلسطینی مزاحمت کاروں کے ٹھکانوں اور اہم تنصیبات کے بارے میں اسرائیلی فوج کو معلومات فراہم کرتے رہے ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق مزاحمتی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں جب اسرائیلی فوج کے لیے جاسوسی کے مرتکب عناصر کو ہلاک کیا جا رہا تھا۔ اسی دوران ایک گروپ نے خود کو رضاکارانہ طور پر پولیس کے حوالے کر دیا اور ساتھ ہی اعتراف کیا کہ وہ بھی اسرائیل کے لیے جاسوسی کرتے رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے آئندہ کے لیے توبہ تائب ہونے کا بھی عزم ظاہر کیا۔
قبل ازیں فلسطینی مزاحمتی گروپوں کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ جو شخص بھی اسرائیل کے لیے جاسوسی کا مرتکب ہوا ہےوہ توبہ تائب ہو کر خود کو حکام کے حوالے کردے، اسے معاف کر دیا جائے گا لیکن جو شخص قوم کے خلاف دشمن کی مدد جاری رکھے گا تو پکڑے جانے کے بعد اسے سخت سے سخت سزا دی جائے گی اور اسے کسی قسم کی رو رعایت نہیں برتی جائے گی۔ فلسطینی مزاحمتی گروپوں نے اسرائیل کو معلومات فراہم کرنے والے ایجنٹوں کی گرفتاری کے لیے مزید کوششیں شروع کر دی ہیں۔ جلد ہی مزید لوگوں کے بے نقاب ہونے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
