اسرائیلی حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی پر جولائی اور اگست کے دوران 51 روز تک جاری رہنے والی جنگ کے دوران صہیونی ریاست کے اہم اداروں پر کئی بار سائبر حملے کیے گئے۔
ان میں سے بعض حملے ناکام بنائے گئے تاہم بہت سی کارروائیوں میں ہیکرز نے اداروں کے ڈیٹا تک رسائی کے بعد اسے تباہ کردیا۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے کہا کہ ہمیں صرف فلسطینی مزاحمت کاروں کے راکٹوں اور ان کی جگہ جگہ کھودی سرنگوں سے ہی خطرات لاحق نہیں ہیں بلکہ ہمیں سائبر کی دنیا سے بھی سنگین نوعیت کے خطرات کا سامنا ہے۔ غزہ کی پٹی میں فلسطینی مزاحمت کاروں کے خلاف آپریشن کے دوران اسرائیلی ریاست کے کئی اہم اداروں کی ویب سائیٹس پر ہیکرز نے حملے کیے ہیں اور انہیں نقصان پہنچایا گیا ہے۔
نیتن یاھو نے کہا کہ حالیہ کچھ عرصے کے دوران فلسطینی مزاحمت کاروں کے حامی ہیکرز نے اپنی کارروائیاں تیز کردی ہیں، جس کا توڑ کرنے کے لیے اسرائیل کو بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے نام لے کر کہا کہ سائبر حملوں میں اسلامی تحریک مزاحمت ”حماس” اور اسلامی جہاد کے جنگجو ملوث ہیں۔ انہوں نے حیران کن حد تک سائبر حملے کیے جس کے نتیجے میں کئی اداروں کا پورا نظام تعطل کا شکار ہوا ہے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل اسرائیلی وزیردفاع موشے یعلون بھی ایک بیان میں سرکاری اداروں پر ہیکرز کے تازہ اور تباہ کن حملوں کی تصدیق کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سائبر حملوں کی روک تھام ایک مشکل مرحلہ ہے تاہم وہ اسے یقینی بنانے کے لیے موثر حکمت عملی اختیار کریں گے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
