رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غزہ کی سرحد پر توپ خانے کی تنصیب ایک غیرمعمولی اقدام ہے۔ توپ خانے کی بیٹریاں ایک ایسے وقت میں نصب کی گئی ہیں جب ایک ہفتہ قبل شمالی غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج نے ایک فلسطینی نوجوان کوگولیاں مار کر شہید کردیا تھا۔ صہیونی فوج کا کہنا تھا کہ فلسطینی شہری کو اس وقت گولیاں ماری گئیں جب وہ شمالی غزہ میں فوجی کیمپ کے قریب باردی سرنگ نصب کررہا تھا۔
رپورٹ میں اسرائیل کے فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ تازہ فوجی دستوں اور توپ خانے کی غزہ کی پٹی پر منتقلی کا مقصد فلسطینیوں کی کسی بھی کارروائی کا فوری جواب دینا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی کی سرحد پرتازہ فوجی سرگرمیاں معمول کا حصہ ہیں۔
مبصرین کا خیال ہے کہ غزہ کی پٹی کی سرحد پر فوجی سرگرمیوں میں اضافہ اسرائیل کی ایک سازش ہے جس کا مقصد مغربی کنارے اور بیت المقدس میں جاری تحریک انتفاضہ سے فلسطینی، علاقائی اور عالمی توجہ ہٹانا ہے۔
ادھر اسرائیل کے عبرانی ذرائع ابلاغ نے اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ کے خلاف زہرآلود مہم شروع کی ہے۔ صہیونی میڈیا نے الزام عائد کیا ہے کہ غزہ کی پٹی اور غرب اردن میں حماس اسرائیل کی سلامتی کے لیے پہلے سے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔
