مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی وزارت خارجہ کی جانب سے جمعرات کے روز جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی جانب سے جو تحقیقاتی کمیشن قائم کیا گیا ہے وہ غیر شفاف ہے جس نے اپنی تحقیقات سے قبل ہی نتائج بھی جاری کر دیے ہیں۔ یہ یک طرفہ اور جانب دار کمیشن ہے اور اسرائیل ایسے کسی جانب دار تحقیقاتی کمیشن کےساتھ کوئی تعاون نہیں کرے گا۔
ادھر اسرائیلی ریڈیو نے حکومت کے سرکای موقف کی تصدیق کی ہے اور کہا کہ وزیراعظم بنجمن نتین یاھو کی حکومت غزہ جنگ کی تحقیقات کے لیے قائم اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن سےتعاون نہیں کرے گی۔
ریڈیو رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چند روز قبل یو این کمیشن نے اسرائیل سے اردن کے راستے مقبوضہ
فلسطینی علاقوں میں داخل ہونے کی اجازت مانگی تھی لیکن اسرائیل نے اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔
خیال رہے کہ ایک ہفتہ پیشتر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اپنے دورہ غزہ کے دوران جولائی اور اگست کے دوران اسرائیلی فوج کے حملوں کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیشن تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا جو اس امر کی تحقیقات کرے گا کہ جنگ کےدوران اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں اقوام متحدہ کے اداروں کے 100 مراکز کو کیوں بمباری کا نشانہ بنایا۔ بمباری میں اقوام متحدہ کے 11 رضاکار بھی شہید ہو گئے تھے۔
اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق غزہ جنگ کے دوران صہیونی فوج کی بمباری سے عالمی ادارے کے ایک سو مراکز پربمباری کی گئی جس کے نتیجے میں 42 افراد شہید ہوگئے تھے جن میں سے 11 اقوام متحدہ کے امن رضار بھی شامل تھے۔
واضح رہے کہ سات جولائی سے 26 اگست تک اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی پر مسلسل 51 روز تک ٹنوں کے حساب سے آتش وآہن کی بارش کی تھی جس کے نتیجے میں 2100 فلسطینی شہید اور 11 ہزار سے زاید زخمی اور معذور ہو گئے تھے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
