اسرائیلی کابینہ میں شامل ایک صہیونی وزیرنے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی مزاحمت کاروں کا انتظار سے قبل ہی یک طرفہ طور پر غزہ جنگ کو ختم کرنے کا اعلان کر دے۔
اسرائیلی کابینہ میں شامل”جیوش ہوم” پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اور وزیر ’’ نفتالی بینیٹ‘‘ نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کی پٹی پر عائد معاشی پابندیوں کا خاتمہ، گذرگاہوں کا مستقل طور پر کھولا جانے اور سمندر میں ماہی گیری کے لیے زیادہ علاقے میں غزہ کے شہریوں کو ماہی گیری کی اجازت دینے کے مطابات درست ہیں۔ اسرائیلی حکومت کو یہ مطالبات مان لینے چاہئیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی وزیر نے کم وبیش یہی تجاویز جمعہ کے روز اپنی کابینہ کے اجلاس کے موقع پر بھی دیں۔ انہوں نے کہا کہ قاہرہ میں فلسطینی مزاحمتی گروپوں اور تل ابیب حکومت کے مابین جاری بالواسطہ مذاکرات میں حکومت لچک کا مطاہرہ کرے تاکہ جلد از جلد جنگ بندی کی راہ ہموار ہو سکے۔
اسرائیلی ریڈیو کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ روز کابینہ کے اجلاس میں فلسطینی مزاحمت کاروں کی جنگ بندی سے متعلق شرائط پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ کابینہ نے اس موقع پر فلسطینی مزاحمت کاروں سے طویل المیعاد جنگ بندی پر بھی اتفاق کیا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
