فلسطین میں ماہی گیریونین کے سربراہ نزار عیاش نے ترک خبر رساں ایجنسی’’اناطولیہ‘‘ کو بتایا کہ صہیونی فوجویں نے ہفتے کے روز قابض فوجیوں نے غزہ کے ساحل سے 33 سالہ حاتم سلطان اور 25 سالہ محمد سلطان کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔
عیاش نے بتایا کہ دونوں کی گرفتاری اس وقت عمل میں لائی گئی جب وہ غزہ کے سمندر میں ماہی گیری کررہے تھے۔ اسرائیلی فوجیوں کا دعویٰ ہے کہ حراست میں لیے گئے فلسطینی چھ میل کے فاصلے سے آگے نکل کر مچھلیوں کا شکار کررہے تھے۔ صہیونی ریاست کی جان سے غزہ کے ماہی گیروں کو سمندر میں صرف چھ میل تک مچھلیوں کے شکار کی اجازت ہے تاہم عملا انہیں تین می سے بھی آگے نہیں جانے دیا جاتا۔
اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے فلسطینیوں کی گرفتاری کے بعد کوئی باقاعدہ وضاحت نہیں کی گئی کہ آیا انہیں کیوں کر حراست میں لیا گیا۔ تاہم ذرایع کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کی گرفتاری مقررہ سمندرہ حدود سے تجاوز کرنے پر عمل میں لائی گئی ہے۔
غزہ کے ساحل سے دوفلسطینی شہرویوں کی گرفتاری کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس طرح کے واقعات اب روز کا معمول بن چکے ہیں۔ آئے روز صہیونی فوجی غزہ کے ماہی گیروں کوتشدد کا نشانہ بناتے، ان پر گولیاں چلاتے اور انہیں حراست میں لے کر جیلوں میں ڈالتے ہیں۔
ادھر شمالی غزہ میں جبالیا کے مقام پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے دو فلسطینی کاشت کار اس وقت زخمی ہوگئے جب وہ کھیتوں میں کام کررہے تھے۔ دونوں زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت اب خطرے سے باہر بیان کی جاتی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
