فلسطین فٹ بال فیڈریشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر ابراہیم ابو سلیم نے میڈیا کو بتایا کہ فیفا کا وفد مغربی کنارے کے راستے ایریز گذرگاہ سے ہوتے ہوئے غزہ داخل ہوا جہاں اس کا مقامی شہریوں کی جانب سے شاندار استقبال کیا گیا۔
ابو سلیم نے بتایا کہ صہیونی فوج کی جانب سے فیفا کے وفد کو غزہ داخلے سے روکنے کی بھرپور کوشش کی گئی تھی۔ قابض فوج کی جانب سے کھڑی کی گئی رکاوٹوں کے نتیجے میں مہمان وفد تین گھنٹے تاخیر سے غزہ پہنچا۔
انہوں نے بتایا کہ وفد میں فیفا کے ڈائریکٹر برائے تعلقات عامہ ڈیوڈ بروکھا، مشرقی وسطیٰ میں اسپورٹس پروفرام کےڈائریکٹر ماجد العبوہ، فیفا کے فلسطینی کھیلوں سے متعلق امور کے نگران ابراہیم القطری سمیت کئی دوسرے اہم عہدیدار بھی شریک تھے۔
خیال رہے کہ ایک روز قبل بھی فیفا کی جانب سے ایک اعلیٰ سطحی وفد کو غزہ روانہ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ فیفا کی جانب سےغزہ کی پٹی کے بیس نوجوانوں کو فٹ بال کی ٹریننگ دینے کے لیے ایک ملین ڈالر کی رقم مختص کی گئی ہے جو فلسطینی فٹبال فیڈریشن کے ذریعے خرچ کی جائے گی۔
فلسطینی عہدیدار کی جانب سے بتایا گیا کہ وہ فیفا کے وفد کے سامنے اپنے مطالبات کی فہرست بھی رکھیں گے جن میں غزہ کی پٹی میں ایک بڑے فٹبال اسٹیڈیم کےقیام سمیت فٹ بال فیڈریشن کے کئی دوسرے منصوبے بھی شامل ہوں گے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
